حلب کے 20 ہزار بچے گھر چھوڑنے پر مجبور

بیروت سے ترکی کے وزیر خارجہ کا بیان: اسداپنے ریکارڈ کی وجہ سے حاکم ہونے کے لائق نہیں بیروت: بولا اسطیح کل اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ حلب شہر کے مشرقی علاقہ سے تقریبا 20 ہزار بچے اپنے گھروں کو چھورڑ کر فرار ہو گئے ہیں اور آگاہ کیا ہے کہ […]

حلب کے 20 ہزار  بچے گھر چھوڑنے پر مجبور
بیروت سے  ترکی کے وزیر خارجہ کا بیان: اسداپنے ریکارڈ کی وجہ سے حاکم ہونے کے لائق نہیں
%d8%a8%da%86%db%92

بیروت: بولا اسطیح

کل اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ حلب شہر کے مشرقی علاقہ سے تقریبا 20 ہزار بچے اپنے گھروں کو چھورڑ کر فرار ہو گئے ہیں اور آگاہ کیا ہے کہ اس وقت انہیں ہمارے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ 24 نومبر سے اب تک تقریبا 31،500 لوگ حلب کے مشرقی مضافاتی علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے  بھاگ چکے ہیں۔

یونیسف نے (United Nations Children’s Emergency Fund) اندازہ لگایا کہ ہجرت کرنے والے 60 فیصد بچے ہیں یعنی 19 ہزار بچے جبکہ انسانی حقوق کے شامی مبصر کے اندازے سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ گزشتہ سنیچر کے دن سے حلب کے مشرقی علاقے میں ہونے والی جنگ کی وجہ سے پچاس ہزار افراد گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

حلب کے مشرق میں اپوزیشن فورسززمینی طور پر بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اورکل شیخ سعید نامی علاقہ کی حفاظت کی کوشش میں وہ حکومتی فورسز کے ساتھ شدید لڑائیوں میں داخل ہوچکی ہیں۔

کل بیروت میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے شام میں فوری طور پر فائر بندی کرنے کو کہا ہے اور بتایا کہ حلب کی صورت حال بہت ہی خطرناک اور نازک ہے، مزید یہ کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد حکومت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بشار الاسد  600  ہزار لوگوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے اور جس کا کردار اس طرح ہو اسے کسی ملک پر حکومت نہیں کرنی چاہئے۔