وزیر قانون نے دہشت گردوں کے لئے وفاقی جیل کے قیام کو مسترد کر دیا.
کولون (جرمنی) ماجد خطیب جرمنی کے شہر سیلیا کی عدالت میں آج جمعرات کو سولہ سالہ مغربی نژاد نوجوان جرمنی دوشیزہ صافیہ س کى پيشى۔ اس پر قتل کی کوشش، دوسروں کو سنگین جسمانی نقصان پہنچانے، اور بیرونی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے. صافیہ نے ہانوفر ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ […]

کولون (جرمنی) ماجد خطیب
جرمنی کے شہر سیلیا کی عدالت میں آج جمعرات کو سولہ سالہ مغربی نژاد نوجوان جرمنی دوشیزہ صافیہ س کى پيشى۔ اس پر قتل کی کوشش، دوسروں کو سنگین جسمانی نقصان پہنچانے، اور بیرونی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے.
صافیہ نے ہانوفر ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ چھبیس فروری کو ایک چونتیس سالہ پوليس آفیسر کى گردن پر چھری سے وار کیا تھا جب پوليس آفیسر اس کے شناختی کاغذات کی تلاشی لے رہا تھا ، اسوقت صافیہ کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔
جرمن ایوان عدالت نے لڑكى پر الزام لگایا ہے کہ اس نے قتل کى غرض سے پوليس کو تفتیش پر ابھارا اور بعد میں اسکے پرس سے دو چاقو بر آمد ہوئے، جس سے شک یقین میں بدل گيا کہ اس نے پوليس کے اہل كاروں كو جسمانی نقصان پہنچانے کا منصوبہ پہلے ہی سے بنا ركها تھا.
تفتیش کاروں نے اسکے بیگ سے ایسے دو موبائل بھی برآمد کئے جس کا استعمال اس نے شام میں موجود انتہاء پسند دوستوں سے رابطے کے لئے کیا تھا. ان كے درميان جرمنی زبان میں گفتگو ہوئی تھی جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شام میں داعش کے ساتھ سرگرم جرمن دہشت گردوں کے ساتھ اس لڑكى کا تعلق ہے.
جرمن ایوان عدالت نے ایک ویڈیو کے بارے میں اشارہ کیا جو ملزمہ نے خود بنائى ہے، اس میں وہ ایک خود کش حملے کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ لڑكى نے يہ ويڈيو داعش کے کارکنوں کو بھیجى اور ان سے خود کش حملے کی تنفیذ کے بارے میں مشورہ مانگا۔
صافیہ نے پوليس اہل كار کى گردن پر وار کیا، اسٹیشن پر نصب کیمروں سے پتہ چلا کہ دوران تفتيش کس طرح لڑكى نے چالاکی وبے دردى سے وار کیا کہ اس نے اپنے کوٹ کى آستین سے ايک بڑا چاقو نکالا تھا، پولس اہل كار کا زخم اتنا گہرا تھا کہ پانچ سینٹی میٹر سے زیادہ گہرے زخم سے بہتے خون کو روکنے کیلئے آپریشن کیا گیا اس کے بعد پوليس اہل كار کی جان بچی- صافيہ پر عائد الزامات کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا تعلق دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے، اور اس نے تنظیم کے نام پر قتل کے ارادے سے حملہ كيا، اسکا منصوبہ تها کہ پوليس اہل كار کے قتل کے بعد اسکے ہتھیار چھین کر مزید لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارے گى- صافیہ کی انتہاء پسندی اور فکری تشدد شام میں داعش کے ممبران سے سوشل میڈیا پر تعلقات کے دوران بڑهتا گيا- وہ بچپن سے نوجوانوں کی تشدد پسند تنظيم کی رکن تھی- ایک مرتبہ وہ انٹرنیٹ پر ایک تشہیری ویڈیو میں انتہاء پسند مبلغ سفین لاو کے ساتھ رونما ہوئی جسکو جرمنی میں ادارہ برائے عوامی تحفظ، نفرت اور ناپسندیدگی کو فروغ دینے والے خطرناک لوگوں میں شمار کرتا ہے۔
پولس پر حملہ کرنے سے قبل صافیہ نے اپنے والدین کے نام جعلى پرمٹ بنوا كر داعش میں شامل ہونے کے مقصد سے تركى كا سفر بھی کیا تھا، اس كو توقع تھی کہ داعش تنظیم شام پہنچنے میں اسکی مدد کرے گى، لیکن يہ منصوبہ اس طرح نا كام ہوگیا کہ اس کی والدہ استنبول گئی اور اس کو واپس جرمنی لے آئی۔
اسی الزام ميں سیلیا کی ایوان عدالت، صافيہ کے بیس سالہ شامی دوست محمد حسن کے ساتھ بھی تحقیق کریگی- اس پر الزام ہے کہ وہ لڑكى کے منصوبہ سے واقف تھا، لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ بھی عدالت میں پیش ہوگا یا نہیں۔ محمد حسن كو یونان کے راستے ستمبر 2015ء میں ترکی فرار ہونے کی کوشش کرتے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ انتہا پسند لڑكى کے بارے میں تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انٹرنیٹ پر اس نے اپنے برطانوی دوست کو لکھا کہ وہ جرمنی میں خودکش حملوں کی تنفیذ کا ارادہ رکھتی ہے، مگر بعد ميں پولس نے اس بات کی تاکید کی کہ صافیہ پولس کے قتل کا ارادہ نہیں رکھتی تھی- بلكہ جوابى كارروائى ميں اس سے زيادتى ہوگئى- اور بعد ميں اس نے پوليس اہل كار کو ایک معذرت نامہ بھی لکھا تھا.