عوام نے مواد اور فنکارانہ قدر وقیمت نیز نوجوانوں کا انتخاب کیا
دبئی "الشرق الاوسط” "سیدتی” ميگزین نے اپنے نئے شمارے میں رمضان سن 2016ء کے سالانہ ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ ان نتائج سے مشاہدین کے فکر ونظر میں قابل غور تبدیلیاں سامنے آئیں کہ نہ تو انھیں مکرر شدہ فلمیں اور ٹیلی پروگرام قبول ہیں نہ ہی وہ ٹیلی اور فلمی ستارے پسند [&helli

دبئی "الشرق الاوسط”
"سیدتی” ميگزین نے اپنے نئے شمارے میں رمضان سن 2016ء کے سالانہ ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ ان نتائج سے مشاہدین کے فکر ونظر میں قابل غور تبدیلیاں سامنے آئیں کہ نہ تو انھیں مکرر شدہ فلمیں اور ٹیلی پروگرام قبول ہیں نہ ہی وہ ٹیلی اور فلمی ستارے پسند ہیں جو کوئی نئی چیز اپنی فلموں یا ٹی وی پروگراموں میں پیش کرنے سے عاجز ہیں۔ عوام کا یہ ذوق اور فکر ونظر ایک نیا افق کھولنے میں متعاون ہوسکتا ہے اور نئے نوجوان چہروں کو اپنی قسمت آزمانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، نیز ایسے گلیمر سے بھرپور ٹیلی پروگرام اور فلموں کا ظہور ہوسکتا ہے جو فنی قدروقیمت سے لیس ہوں اور مختلف سماجی موضوعات اعلی فنکارانہ انداز میں پیش کریں۔ اس سال کے نتیجہ میں ایم بی سی 1 کو عرب ٹی وی چینلوں کے زمروں میں سب پر فوقیت حاصل رہی، اور سے درجہ اول ملا اس طور پر کہ اسے ووٹوں کا سب سے زیادہ تناسب حاصل رہا، اسی طرح اس چینل کو "رمضان ہمیں ایک کرتا ہے” کہ ٹیلی پروگرام پیش کرنے پر اسے "رمضان کا سب سے اچھا امتیازی نشان” انعام سے بھی سرفراز کیا گیا۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کیوں کہ ایم بی سی اپنی ٹیلی تاریخ میں جب سے اپنے سارے چینلز کو سالوں سے ریفرنڈم کے لئے پیش کرتی آرہی ہے یہ نویں جیت ہے جو ایم بی سی کے حصہ میں آئی ہے۔
ناصر قصبی اور عادل امام کی عوامی مقبولیت:
یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ اس سال بھی ناصر قصبی اور عادل امام کا نام انعام کے لئے دوبارہ پکارا جائے۔ حقیقت یہ ہیکہ یہ دونوں فنکار سالوں سے بڑی کامیابیاں حاصل کرتے آرہے ہیں۔ اور ان کی فلموں اور ٹی پروگراموں کو پورے عالم عرب میں عوامی مقبولیت حاصل ہے اور ان کے کاموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ "سیدتی” میگزین کے مشیرکار اور ریفرنڈم کے نگران کار اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی ہر بار کی جیت کا اصلی سبب یہ ہیکہ یہ دونوں اداکار ایسے پروگرام اور فلمیں منتخب کرتے ہیں جو عوام کے مسائل اور انکے احوال کی غمازی کریں اور عوامی مسائل کا تجزیہ پیش کریں اور درحقیقت یہ عوامی مسائل یکساں طور پر ساری عرب دنیا کو محیط ہیں۔ فنکارانہ حیثیت سے دونوں اداکاروں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اداکاری کے میدان میں فنکارانہ طرز وٹون کی جدت اور کرشمہ جو دونوں اداکاروں میں بدرجہ اتم موجود ہے، ان کے کاموں میں اضافی کردار ادا کرتا ہے اور یہ وہ نسخہ ہے جو نہ صرف ان کی عوامی مقبولیت کو باقی رکھے ہوئے ہے بلکہ اس میں مزید اضافہ کرتا جارہا ہے۔ ریفرنڈم سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ کامیڈی ٹیلی پروگراموں کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے جس کے نتیجے میں انھیں بار بار جیت حاصل ہورہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہیکہ عرب عوام کو کامیڈی ٹیلی پروگرام زیادہ پسند ہیں بنسبت دوسرے پروگراموں کے کہ وہ نہ صرف ان کامیڈی پروگراموں سے محظوظ ہوتے ہیں بلکہ انھیں ان سے ہنسی مزاق اور دل لگی کا موقع میسر ہوجاتا ہے اور ان کے ذریعہ وہ اپنے روزانہ کے غم غلط کرلیتے ہیں۔ جیتنے والے کامیڈی پروگرام درج ذیل ہیں: "مامون اور شرکاء”، جس میں عادل امام نے اداکاری کی ہے اور اس پروگرام کو سن 2012ء میں "فرقہ ناجی عطاء اللہ” کی جیت کے بعد یہ پانچویں مرتبہ جیت حاصل ہورہی ہے۔ دوسرے کامیڈی پروگرام ہیں: صاحب السعادہ” 2014ء، استاد اور رئیس قسم” 2015ء، اسی طرح کامیڈی پروگرام "سیلفی 2” کو سب سے اعلی کامیڈی پروگراموں کا درجہ دیا گیا جس میں معروف اسٹار ناصر القصبی نے ادا کاری کی ہے، یہ پروگرام سیلفی پروگرام 1 کے ساتھ چار سال سے مسلسل جیتتا آرہا ہے، اس سے پہلے یہ درجہ کامیڈی پروگرام "طاش ما طاش” کو سن 2011ء میں حاصل رہا ہے۔