باب المندب پر ایرانی میزائل روکنے کیلئے ایک برطانوی تباہ کن بحری بیڑا
مکلا میں یمنی فوج کی امن کاروائی کے دوران 30 دہشت گرد ہلاک لندن: "الشرق الاوسط” کل کے برطانوی اخبار "ٹائمز” کے مطابق برطانیہ نے تباہ کن فوجی بیڑا یمنی ساحلوں کی جانب روانہ کر دیا ہے تاکہ خطے میں بین الاقوامی سمندری حدود کو درپیش خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے […]
مکلا میں یمنی فوج کی امن کاروائی کے دوران 30 دہشت گرد ہلاک

لندن: "الشرق الاوسط”
کل کے برطانوی اخبار "ٹائمز” کے مطابق برطانیہ نے تباہ کن فوجی بیڑا یمنی ساحلوں کی جانب روانہ کر دیا ہے تاکہ خطے میں بین الاقوامی سمندری حدود کو درپیش خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے اور خاص طور سے آبنائے باب المندب میں، اخبار "ایم-ایچ- ایس ڈارنگ”نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ خطے میں ایرانی میزائلوں سے برطانوی مفادات کی حفاظت کی خاطر جدید ترین برطانوی تباہ کن بیڑے کا استعمال کیا جائے گا اور پھر بعد میں ماہ رواں ہی میں یہ "داعش” کے خلاف بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ فوجی کاروائیوں میں شریک ہوگا۔
رائل انسٹی ٹیوٹ آف وار کے ایک محقق پیٹر روبرٹس (جو کہ "روسی” کے نام سے معروف ہیں) نے کہا کہ، آبنائے باب المندب اس حد تک اہم ترین ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی خرابی سے پورے برطانیہ کی بجلی منقطع ہو سکتی ہے، انہوں نے آبنائے باب المندب کے بین الاقوامی سمندری حدود کے کھلے تحفظ کی اہمیت پر زور دیاہے، اخبار کے مطابق برطانیہ میں تیل اور گیس سے متعلقہ اکثر اشیاء باب المندب کے راستے سے ہی لائی جاتی ہیں۔
برطانوی تباہ کن بیڑا جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس کی اونچائی 151 میٹر تک اور وزن تقریبا 800 ٹن ہے، برطانوی رائل نیوی ویب سائٹ کے مطابق اس تباہ کن بیڑے کا تعلق "بڑی 45” کی سیریز سے ہے، اس تباہ کن بیڑے کے ساتھ 190 نیوی کے افراد ہوتے ہیں اور یہ ہرطرح کی سرگرمیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں جیسا کہ "فوجی” کے علاوہ طوفان کے بعد امدادی کاروائیوں ، بحری قذاقوں کے حملے کی صورت میں حفاظتی کاروائیوں کی صلاحیت ہے۔
ایک اوریمنی معاملہ، یمنی فوج کے دوسرے علاقے کی قیادت کی طرف سے کل جاری بیان کےمطابق گورنریٹ حضر موت کے ایک بڑے شہر مکلا میں یمنی فوج کی بڑے پیمانے پر کاروائی کے نتیجے میں مسلح تنظیم "القاعدہ” کے 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں، بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاروائی کے دوران 4 فوجی جوان جاں بحق اور دیگر 12 زخمی ہوئے ہیں اور تعز میں مغربی سمت میں ایک طرف فوج اور دوسری جانب حوثی اور صالح کی ملیشیاؤں کے مابین پرتشدد جھڑپوں میں تیزی آئی ہے اور جب کہ گورنریٹ کے جنوبی سمت کے نئے علاقوں کو فوج نے آزاد کرا لیا ہے۔