جوہری معاہدہ پر دستخط کے فورا بعد خامنئی نے "بلیسٹک میزائل” کے تجربہ کرنے کا حکم دیا تھا

  لندن: عادل السالمی ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف محمد باقری کی جانب سے شامی شہر حلب میں ایرانی میزائل بنانے کی فیکٹری کے قیام کے اعلان کرنے کے دو روز بعد ہی کل تہران نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ اس خطہ کے دوسرے ممالک میں بھی اسے میزائل بنانے […]

جوہری معاہدہ پر دستخط کے فورا بعد خامنئی نے "بلیسٹک میزائل” کے تجربہ کرنے کا حکم دیا تھا
%d9%85%d9%8a%d8%b2%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%a7%d9%8a%d8%b1%d8%a7%d9%86

لندن: عادل السالمی

ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف محمد باقری کی جانب سے شامی شہر حلب میں ایرانی میزائل بنانے کی فیکٹری کے قیام کے اعلان کرنے کے دو روز  بعد ہی کل تہران نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ اس خطہ کے دوسرے ممالک میں بھی اسے میزائل بنانے کی سہولتیں فراہم ہیں-

ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر حسین شیخ الاسلام نے کہا کہ ایران کا میزائل بنانا یہ صرف شام ہی تک محدود نہیں بلکہ دوسرے ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ شیخ الاسلام نے ان ممالک کی تحدید نہیں کی جہاں ایران میزائل بنا رہا ہے، لیکن اس نے اس جانب واضح طور پر اشارہ کیا عراق بھی ان ہی ملکوں کے ضمن میں ہے جہاں بلیسٹک میزائل بنانے کی لائن کو منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر کافی زور دیا کہ تہران  آیۃ اللہ خامنئی کے نعرہ "قدس کا راستہ کربلاء سے ہوکر گزرتا ہے” کے موافق کام کر رہا ہے۔

شیخ الاسلام نے بیرون ایرن سرحد سے باہر ایرانی میزائل بنانے کے منصوبہ کو وسیع تر کرنے کے مسئلہ کو "خطے میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی خطرے”   سے منسلک قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ میزائل بنانے کا کام "اسرائیل کے ارد گرد” جاری ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جنوبی لبنان .اور غزہ کی پٹی کا علاقہ بھی شامل ہے جہاں یہ کام جاری ہے-

دریں اثناء، فوج کے سابق چیف آف سٹاف جنرل حسن فروزآبادی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر سنہ 2015ء میں ایرانی رہنما علی خامنئی کے حکم سے     ایرانی مسلح فوج نے "عماد” نامی بلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جس کی رینج 1700 کلومیٹر تھی۔

بلیسٹک میزائل”عماد”  کا تجربہ جولائی سنہ 2015ء میں جوہری سمجھوتے کے بعد اپنی نوعیت کا سب سے پہلا  بیلسٹک ایرانی میزائل تجربہ تھا۔