موصل میں ناکہ بندی کے شکار باشندے غذائی بحران سے دو چار
اقوام متحدہ: ہمارے لئے صورتحال بہت ہی پریشان کن ایک بےگھر لڑکی جو داعش کے مقبوضہ علاقوں سے بھاگنے کے دوران زخمی ہوگئی تھی وہ موصل کے مغربی اربیل کے ہسپتال میں کل علاج کراتے ہوئے (روئٹرز) موصل: "الشرق الاوسط” شہر موصل کے باشندے مختلف طرح کے خطروں اور بے کسی […]
اقوام متحدہ: ہمارے لئے صورتحال بہت ہی پریشان کن

ایک بےگھر لڑکی جو داعش کے مقبوضہ علاقوں سے بھاگنے کے دوران زخمی ہوگئی تھی وہ موصل کے مغربی اربیل کے ہسپتال میں کل علاج کراتے ہوئے (روئٹرز)
موصل: "الشرق الاوسط”
شہر موصل کے باشندے مختلف طرح کے خطروں اور بے کسی کا سامنا کر رہے ہیں- یہ وہی باشندے ہیں جو شہر موصل ہی میں رہ گئے اور یہ شہر داعش کے قبضے سے دوبارہ اپنی ماتحتی میں لانے کے لئے عراقی فوج کی جانب سے مشرق، شمال اور جنوب کی سمت سے پیہم حملوں کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ نے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ کئی سالوں کے بعد عراق اتنی بڑی فوجی سطح پر حملے کا شکار ہونے کے نتیجہ میں یہاں سے دو لاکھ شہری پہلے ہی ہفتہ میں اپنے گھر کو خیرباد کہنے پر مجبور ہوجائیں گے- لیکن بےگھر ہونے والوں کی تعداد ابھی اس کے ایک تہائی حصہ تک بھی نہیں پہنچی ہے۔
مائیگریشن کی بین الاقوامی تنظیم نے پرسوں یہ بات کہی ہے کہ 17 اکتوبر سے شروع ہونے والے حملوں کے بعد سے اب تک 76 ہزار شخص موصل میں اپنا گھر چھوڑ چکے ہیں۔
فرانس پریس ایجینسی کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ اسی شہر میں رہ گئے ہیں، وہ یا تو ڈر کى وجہ سے یا فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو نے کى وجہ سے نہیں نکل سکے-