ولد الشیخ ہادی سے قانونی جواب وصول کر رہے ہیں
صنعا میں باغى حکومت کو مسترد کرنے والے ممالک ميں تركى شامل عدن: "الشرق الاوسط” يمن میں تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی ایک نئی کوشش کے ضمن میں کل یمن کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی سے عدن میں […]
صنعا میں باغى حکومت کو مسترد کرنے والے ممالک ميں تركى شامل

عدن: "الشرق الاوسط”
يمن میں تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی ایک نئی کوشش کے ضمن میں کل یمن کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی سے عدن میں ملاقات کی۔
یمنی حکومت نے کہا ہے کہ صدر ہادی نے اقوام متحدہ کے نمائندے کو پيغام پہنچایا- یمنی سرکاری اخبار ایجینسی (سباء) كے مطابق اس پيغام میں "اقوام متحدہ کے نمائندے كى طرف سے پيش كرده لائحۂ عمل پر يمنى حكومت كا جواب اور نقطۂ نظر شامل ہے جس كى بنا پر يمنى مسئلے كے حل كرنے كى كوششيں كامياب ہو جائيں-”
ميٹنگ كے بعد ولد الشیخ نے بيان كيا: "صدر ہادی کے بغیر یمن میں پر امن حل تلاش نہیں کیا جا سکتا- اسى كے ساتھ ساتھ انہوں نے خلیجی تجويز اور اس کے عملى وسائل، قومی مذاکرات کے نتائج اور سلامتی کونسل کی قرار دار 2216 پر پابندى کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دریں اثناء ترکی بھی ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے باغيوں کى جانب سے درالحکومت صنعا میں حکومت بنانے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
کل ترکی کی وزارت امورِ خارجہ نے حوثی اور سابق صدر علی عبد اللہ صالح کی طرف سے بنائى گئى "قومی بچاؤ حکومت” نامی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ يہ "قومی بچاؤ حکومت” اقوام متحدہ کی طرف سے یمن میں پائیدار سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا نہیں کرے گی۔ تركى كے اس بیان میں بهى بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گيا کہ انہيں ملک میں استحکام کی بحالی کی خاطر یمن کی تسليم شده حکومت کی حمایت كے لئے اور مزيد کوششيں کرنا چاہئے۔