ایران پر "قاسملو پارٹی” کے ہیڈ کوارٹر میں دھماکہ کرانے کا الزام

اربیل کی جانب سے حملہ کی مذمت اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کی یقین دہانی   اربیل – لندن : "الشرق الاوسط” کل ایرانی مخالف کرد پارٹی نے تہران پر الزام عائد کیا ہے کہ پرسوں رات عراق کے علاقے کردستان میں اس کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے […]

ایران پر "قاسملو پارٹی” کے ہیڈ کوارٹر میں دھماکہ کرانے کا الزام
اربیل کی جانب سے حملہ کی مذمت اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کی یقین دہانی
arbeel-iraq22-12-2016

اربیل – لندن : "الشرق الاوسط”

کل ایرانی مخالف کرد پارٹی نے تہران پر الزام عائد کیا ہے کہ پرسوں رات عراق کے علاقے کردستان میں اس کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے میں اسکا ہاتھ ہے۔ دریں اثناء صوبہ کردستان کی حکومت نےحملہ کی مذمت کی اور اس کے قصورواروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

لندن میں کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی ایران کے نمائندے”مولود سوارہ” نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں مشرقی اربیل کے کویسنجق نامی علاقے میں انکے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا جہاں پارٹی کے جنرل سیکرٹری عبد الرحمن قاسملو کی سالگرہ منائی جا رہی تھی جو ایرانی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں جولائی 1989 میں آسٹریا کے دارالحکومت ویینا میں قتل کر دیئے گئے تھے۔ "سوارہ” نے ایرانی خفیہ ایجنسی پر الزام عائد کیا کہ وہ اس دھماکہ کے پیچھے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "تہران دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے پارٹی کی تمام سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہا ہے”۔ "سوراہ” کے مطابق اس دھماکہ میں 6 افراد ہلاک ہوئے جن میں "آسایش” نامی کرد سیکورٹی کے دو افراد بھی شامل ہیں۔

دریں اثناء صوبۂ کردستان کی حکومت نے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے یقین دہانی کی کہ وہ "اس دہشت گردانہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قانونی سزا دلانے کی  بھرپور کوشش کرے گی  اور ان میں وہ بھی شامل ہیں جو اس جرم کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔