361 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعہ قابل تجدید توانائی کی زیادتی میں چین کی قیادت
قاہرہ: لمیاء نبیل عالمی معیشت کا شمار کیا جانے والا پہلا انجن چین گزشتہ دو سال کے دوران کوئلہ اور تیل کی کمپنیوں کے نقصان کے بعد قابل تجدید توانائی کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، اسی لئے بیجنگ نے صاف توانائی […]

|
قاہرہ: لمیاء نبیل عالمی معیشت کا شمار کیا جانے والا پہلا انجن چین گزشتہ دو سال کے دوران کوئلہ اور تیل کی کمپنیوں کے نقصان کے بعد قابل تجدید توانائی کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، اسی لئے بیجنگ نے صاف توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کل چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ بیجنگ 2020 کے آغاز تک قابل تجدید توانائی کے ذریعہ بجلی کی پیداوار میں 5.2 ٹریلین یوآن (361 بلین ڈالر) کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس کا مقصد پاور پلانٹس میں ماحول کے لئے نقصان دہ کوئلے کے استعمال کے بجائے اس سے زیادہ صاف اور پائیدار ایندھن کی مختلف قسموں کو استعمال کر کے دنیا کی سب سے بڑی توانائی مارکیٹ بننے کا ارادہ ہے۔ |
انرجی ایڈمنسٹریشن نے 2016 اور 2020 کے دوران مقامی توانائی کے شعبے میں ترقی سے متعلق خاص دستاویز میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان سرمایہ کاریوں کے ذریعہ شعبہ میں 13 ملین سے زیادہ ملازمتوں کا اضافہ ہوگا اور انہوں نے مزید کہا کہ آندھی، ہائیڈرو، شمسی اور نیوکلیائی پاور پر مشتمل یہ قابل تجدید توانائی 2020 تک تقریبا نصف بجلی پیدا کرنے میں حصہ لے سکے گی ۔