موصل یونیورسٹی تلاشی اور کیمیائی مواد ضبط

  موصل: "الشرق الاوسط” کل عراقی افواج نے مسلسل دوسرے روز بھی موصل یونیورسٹی کی عمارتوں کی تلاشی جاری رکھی، جس پر پرسوں پچھلے پہر دھاوا بولا گیا تھا، اس دوران کیمیائی مواد قبضہ میں لے لیا گیا جسے تنظیم ہتھیار بنانے کے لئے استعمال کرنے والی تھی۔ انسداد دہشت گردی کے […]

موصل یونیورسٹی تلاشی اور کیمیائی مواد ضبط
1484420290030582700

موصل: "الشرق الاوسط”

کل عراقی افواج نے مسلسل دوسرے روز بھی موصل یونیورسٹی کی عمارتوں کی تلاشی جاری رکھی، جس پر پرسوں پچھلے پہر دھاوا بولا گیا تھا، اس دوران کیمیائی مواد قبضہ میں لے لیا گیا جسے تنظیم ہتھیار بنانے کے لئے استعمال کرنے والی تھی۔ انسداد دہشت گردی کے سربراہ عبد الوہاب الساعدی نے انکشاف کیا کہ کیمیکل سے بھرے نو ڈرم قبضہ میں لے لئے گئے ہیں جنہیں "داعش” ہتھیار بنانے کے لئے استعمال کرنے والی تھی۔

دوسری طرف موصل میں بائیں جانب تنظیم داعش کے زوال کے ساتھ غیرملکی شوٹرز اور خودکش بمبار باقی رہ جانے والے جنگوؤں کے لئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہے ہیں۔

جنگی علاقوں کے دورہ کے دوران وہاں کے رہائشی افراد نے "رویٹرز” ایجنسی سے بات کرتے ہوئے جنگی واقعات کے بارے میں بتایا۔ ان میں سے "ابو رامی” نامی ایک شخص نے بتایا کہ "داعش” کیسے اپنے جنگجوؤں کے درمیان کام کو تقسیم کرتی ہے، جیسے ایک گروپ دھماکہ خیز مواد نصب کرتا ہے، دوسرا گروپ شوٹرز پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک گروپ راستے کی راہمنائی کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ شوٹرز عمومی طور پر روسی، چیچن یا افغانی ہوتے ہیں، جبکہ عراقیوں میں سے اکثریت کا تعلق موصل اور اس کے قریبی شہر تلعفر سے ہے۔ یہ ان کے پاس موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں اور انہیں جہاں تعینات کیا جا سکتا ہے ان علاقوں کے بارے میں خبر پہنچاتے ہیں۔