لیبیا کے ایک اسلامی شخص کو برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت

قاہرہ: خالد محمود برطانیہ کی سپریم کورٹ نے کل لیبیا کے ایک اسلامی رہنما عبد الحکیم بلحاج کو حکومت برطانیہ اور سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ بلحاج کا شمار اس وقت سیاست دانوں میں ہے اور وہ […]

لیبیا کے ایک اسلامی شخص کو برطانوی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت
3

قاہرہ: خالد محمود

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے کل لیبیا کے ایک اسلامی رہنما عبد الحکیم بلحاج کو حکومت برطانیہ اور سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

بلحاج کا شمار اس وقت سیاست دانوں میں ہے اور وہ تختہ الٹنے میں مدد کرنے والے جنگجوؤں کے رہنماؤں میں سے تھے۔ بلحاج کا  کہنا ہے کہ جب برطانوی اور امریکی جاسوسوں نے ان کو لیبیا کے حوالے کر دیا تو انہوں نے معمر قذافی کے حامیوں کی طرف سے کئی سالوں تک سختیوں کا سامنا کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی آئی اے کے ایجنٹوں نے انہیں اور ان کی بیوی فاطمہ کو 2004 میں تھائی لینڈ سے اغوا کیا تھا جبکہ اس وقت ان کی اہلیہ حاملہ تھیں پھر اس کے بعد ان لوگوں نے ان کو برطانوی جاسوسوں کی مدد سے طرابلس غیر قانونی طور پر  منتقل کر دیا۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے کل قانونی کارروائی کرنے کے سلسلہ میں حکومت کی ممانعت کو مسترد کر دیا ہے تاکہ بلحاج اور ان کی اہلیہ کے لئے سٹرا، برطانوی سیکورٹی "MI5″،  انٹیلی جنس "MI6” اور ممتاز سابق انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر سے معاوضہ لینے کا راستہ ہموار ہو سکے مگر  بلحاج نے کہا کہ اگر ان کو بدلہ میں رمزی طور پر ایک پونڈ دیا جائے اور تمام متعلقہ فریق ان سے  معافی مانگ لیں تو وہ  اس معاملہ سے دست بردار ہو جائیں گے۔