حیدر عبد اللہ جنوبی سرحد پر فوجیوں کے لئے گنگناتے ہوئے

دمام: "الشرق الاوسط” خلیج کے ساحلوں سے لے کر مانوس طائف میں واقع ہدا نامی پہاڑوں تک شعر وشاعری کے بادل نے طائف کے ادبی اور ثقافتی کلب کی طرف سے منعقدہ ایک شعر وشاعری کی محفل میں محبت اور وطن پر مبنی نظموں اور نغموں کی بارش برسائی ہے اور […]

حیدر عبد اللہ جنوبی سرحد پر فوجیوں کے لئے گنگناتے ہوئے
4

دمام: "الشرق الاوسط”

خلیج کے ساحلوں سے لے کر مانوس طائف میں واقع ہدا نامی پہاڑوں تک شعر وشاعری کے بادل نے طائف کے ادبی اور ثقافتی کلب کی طرف سے منعقدہ ایک شعر وشاعری کی محفل میں محبت اور وطن پر مبنی نظموں اور نغموں کی بارش برسائی ہے اور ایک نوجوان شاعر حیدر عبد اللہ نے ادباء کی موجودگی میں اس محفل کو دوبالا کر دیا اور باد رہے کہ 2015 کے چھٹھے موسم میں انہیں امیر الشعراء کے لقب اور چادر سے نوازا گیا تھا  جبکہ اس سے قبل 2013 میں انہیں عکاز کے نوجوانوں کے شاعر کے لقب سے نوازا جا چکا ہے۔

اس محفل میں حاضر ہونے والوں سے کلب کی گیلیریاں بھر چکی تھیں اور کلب میں 400 افراد کی گنجائش تھی لیکن شریک ہونے والے مرد اور عورتوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہو چکی تھی۔ شاعر حیدر عبد اللہ نے ایک عظیم موسیقار مدنی عبادی کی دھن کے مطابق گیٹار کے اشاروں پر بہت ہی اچھے انداز میں گنگنایا ہے اور گیٹار کی ذمہ داری ڈاکٹر علی رباعی نے انجام دی ہے۔

اسی طرح اس محفل میں شاعر حیدر عبد اللہ کے کلام کو "ترجل يا حصان” نامی کتاب کی شکل میں تحفہ کے طور پر حاضرین کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے اور یہ کتاب "ناشرون” نامی مکتبہ سے شائع ہوئی ہے۔