بغداد کے گرین زون کے دروازوں پر خونریزیاں
بغداد: "الشرق الاوسط” بغداد کے گرین زون میں پرسکون ماحول میں شروع ہونے والے مظاہرے خونریز جھڑپ میں بل گئے جس کی وجہ سے چند مظاہرین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین مقتدی الصدر کے حامی تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ الیکشن کمیشن کو تبدیل کیا جائے […]

بغداد: "الشرق الاوسط”
بغداد کے گرین زون میں پرسکون ماحول میں شروع ہونے والے مظاہرے خونریز جھڑپ میں بل گئے جس کی وجہ سے چند مظاہرین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین مقتدی الصدر کے حامی تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ الیکشن کمیشن کو تبدیل کیا جائے اسی لئے پولس فورس نے ان کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور ربڑ کی گولی کا استعمال کیا۔
سارے معاملے معمول کے مطابق تھے لیکن یہ معاملہ اس وقت سنگین ہوا جب لوگوں نے الصدر کا بیان سنا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر تم آج سورج غروب ہونے تک الیکشن کمیشن کی تبدیلی کے ذریعہ دیواروں کے پیچھے بیٹھے ذمہ داروں سے اپنے مطالبات کی مانگ کرنے کے لئے گرین زون کے قریب ہو جاؤ گے تو تمہارے مطالبے پورے کر دئے جائیں گے۔ لیکن جب مظاہرین نے گرین زون تک جانے والے ڈیموکریٹک پل کو پار کرنے کی کوشش کی تو پولس فورس سامنے آگئی۔ اس جھڑپ میں پانچ مظاہرین اور دو پولس اہلکار ہلاک ہوئے اور ان کے علاوہ دو سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسی دوران الصدر نے اپنے حامیوں سے ٹیکنیکل انخلاء کا مطالبہ کیا اور وزیر اعظم حیدر العبادی کو اس تشدد کا ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ العبادی نے اس معاملہ کی تحقیقات کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
اسی درمیان کل شام گرین زون پر کئی کاٹیوشا نامی میزائل داغے گئے ہیں۔
اتوار 16 جمادی الاول 1438ہجری – 12 فروری 2017 شمارہ نمبر {13956}