"جنیوا 4” کی ابتدائی کامیابی "براہ راست مذاکرات”

حقیقی مذاکرات ڈی مستورا کے دستاویزی جوابات کے منتظر   جنيف: ميشال ابو نجم کل شامی مذاکرات "جنیوا4” پر ضابطۂ کار اور تیاری کے مسائل کا غلبہ رہا، جو کہ در حقیقت بین الاقوامی نمائندے سٹیفن ڈی مستورا کی جانب سے شامی حکومت اور مخالف جماعتوں کے وفود کو دستاویزی جواب دینے کے بعد [&h

"جنیوا 4” کی ابتدائی کامیابی "براہ راست مذاکرات”
حقیقی مذاکرات ڈی مستورا کے  دستاویزی جوابات کے منتظر
1487964382018085100

جنيف: ميشال ابو نجم

کل شامی مذاکرات "جنیوا4” پر ضابطۂ کار اور تیاری کے مسائل کا غلبہ رہا، جو کہ در حقیقت بین الاقوامی نمائندے سٹیفن ڈی مستورا کی جانب سے شامی حکومت اور مخالف جماعتوں کے وفود کو دستاویزی جواب دینے کے بعد شروع ہونا تھے۔ شاید کہ ڈی مستورا کو ان مذاکرات سے جو "عملی” نتیجہ حاصل ہو وہ یہ کہ دونوں وفود نے براہ راست بات چیت پر "آمادگی” کا اظہار کیا ہے.

کل شام شامی حکومتی وفد کے سربراہ بشار الجعفری، مذاکراتی سپریم کمیشن کے وفد کے سربراہ نصر الحریری اور آخر میں ڈی مستورا کے تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ ابھی تک ضابطۂ کار کے علاوہ خاص طور سے مذاکراتی ایجنڈہ سمیت کسی بھی موضوع کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ہفتہ 29 جمادى الاول 1438 ہجری ­ 25 فروری 2017 ء  شمارہ: (13969)