"موصل میں قتل عام” کے بارے میں متضاد بیانات
موصل: دلشاد عبد الله – بغداد: "الشرق الاوسط” کل "موصل میں قتل عام” کے نتائج کے بارے میں متضاد باتیں گردش کرتی رہی ہیں۔ نہ صرف شہر کے مغربی جانب سے دس روز قبل عمارت کو نشانہ بنانے کے بارے میں جس میں درجنوں شہری ہلاک ہو گئے تھے، بلکہ ہلاک شدگان کی […]

موصل: دلشاد عبد الله – بغداد: "الشرق الاوسط”
کل "موصل میں قتل عام” کے نتائج کے بارے میں متضاد باتیں گردش کرتی رہی ہیں۔ نہ صرف شہر کے مغربی جانب سے دس روز قبل عمارت کو نشانہ بنانے کے بارے میں جس میں درجنوں شہری ہلاک ہو گئے تھے، بلکہ ہلاک شدگان کی تعداد کے بارے میں بھی اختلاف پایا جا رہا ہے۔ کل عراقی فوج نے اعلان کیا ہے کہ نیو موصل میں ایک عمارت کے ملبے سے 61 لاشوں کو نکالا جا چکا ہے۔ فوج نے کہا کہ تنظیم داعش نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی جانب سے انہیں نشانہ بنائے جانے کی نفی کی ہے۔ جبکہ اتحادیوں نے پرسوں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے 17 مارچ کو داعش کو نشانہ بنایا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں فوجی بیان میں اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ عینی شاہدین وعلاقائی ذمے داران کی رپورٹ کے مطابق عمارت کے ملبے کے نیچے سے ابھی تک نکالی گئی لاشوں کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے۔