بین الاقوامی نمائندے

ڈی مستورا کی دستاویز میں "غیر فرقہ وارانہ ریاست” اور "مقامی انتظامیہ” کی پیشکش

"الشرق الاوسط” ان کے سیاسی حل کو شائع کر رہا ہے – اور حزب مخالف کے صفحے میں کردوں کے حقوق کی بات اور ملک کا نام تبدیل کرنے کی تجویز   لندن: ابراہیم حمیدی شام کے لئے بین الاقوامی نمائندے سٹیفن ڈی مستورا نے کل جنیوا میں مذاکرات کی گہرائی میں داخل ہونے […]

ڈی مستورا کی دستاویز میں "غیر فرقہ وارانہ ریاست” اور "مقامی انتظامیہ” کی پیشکش
"الشرق الاوسط” ان کے سیاسی حل کو شائع کر رہا ہے – اور حزب مخالف کے صفحے میں کردوں کے حقوق کی بات اور ملک کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

لندن: ابراہیم حمیدی

شام کے لئے بین الاقوامی نمائندے سٹیفن ڈی مستورا نے کل جنیوا میں مذاکرات کی گہرائی میں داخل ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے شام کے مستقبل کے بارے میں 12 شقوں پر مشتمل اپنے نقطۂ نظر کی دستاویز حوالے کی۔

دستاویز؛ جس کی ایک کاپی "الشرق الاوسط” نے حاصل کی ہے، اس میں یقین دہانی کی گئی ہے کہ بین الاقوامی قرار داد 2254 کے تحت شام "غیر فرقہ وارانہ ریاست” ہے، جس میں "مقامی انتظامی نمائندوں” کی ضرورت سمیت "قومی فوج” کے عمل اور "آئین کے تحت سیکورٹی اداروں کی ضرورت ہے”۔

شامی حزب مخالف کے "مذاکراتی سپریم کمیشن”؛ جس میں قاہرہ اور ماسکو مذاکرات کے وفود بھی شامل ہیں’ انہوں نے ڈی مستورا کے جواب میں 12 شقوں پر مشتمل ایک دستاویز دی ہے۔

اس دستاویز؛ جس کی ایک کاپی "الشرق الاوسط” کو ملی ہے، اس میں نمایاں یہ ہے کہ ملک کے نام "عرب جمہوریہ شام” سے "العربیہ” کا لفظ نکال کر صرف "شام” رکھا جائے، علاوہ ازیں کردوں اور باقی قوموں کے حقوق اور مرکزیت کو تسلیم کیا جائے۔ (۔۔۔)

جمعہ – 13 ربيع الأول 1439 ہجری – 01 دسمبر 2017ء  شمارہ: [14248]