حوثیوں کو ہتھیار دینے میں ایران کے ملوث ہونے کے سلسلہ میں بین الاقوامی تصدیق
79 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں میزائل کی ترقی کے سلسلہ میں میلیشیاؤں کی نااہلی کا بیان نیویارک: علي بردى سلامتی کونسل کے قرادادوں کی وجہ سے یمن پر پابندیوں کی کمیٹی کے ماہرین کے رپورٹ نے نئے دلائل کا انکشاف کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ […]
79 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں میزائل کی ترقی کے سلسلہ میں میلیشیاؤں کی نااہلی کا بیان

نیویارک: علي بردى
سلامتی کونسل کے قرادادوں کی وجہ سے یمن پر پابندیوں کی کمیٹی کے ماہرین کے رپورٹ نے نئے دلائل کا انکشاف کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران اسلحہ، ساز وسامان اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے مقصد سے استعمال کرنے کے لیے بیلسٹک میزائل کے ذریعہ حوثیوں کی مدد کرنے میں ملوث ہے اور اس کے ذریعہ اس نے 2216 قرارداد کو پامال بھی کیا ہے۔
یہ خفیہ رپورٹ جس کی بعض معلومات "الشرق الاوسط” نے حاصل کی ہے اور امید ہے کہ سلامتی کونسل کے اراکین اسے 27 تاریخ کو حاصل کر لیں گے وہ رپورٹ 79 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے علاوہ اس میں 331 ضمیمے بھی ہیں اور اس رپورٹ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی طرف سے ایران پر لگائے جانے والے ان الزامات کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ اس نے حوثیوں کی مدد مختلف قسم کے ہتھیاروں سے کیا ہے اور ان میں بیلسٹک میزائل بھی ہے اور ماہرین کی کمیٹی نے اپنے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران میں بنے ہوئے یا وہاں سے برآمد کئے ہوئے ہتھیاروں کے پارٹس حوثیوں نے حاصل کیا ہے اور اس سلسلہ میں قوی اشارے بھی ملے ہیں لیکن اس بات کا بھی ذکر ہے کہ میلیشیاؤں کے افراد ان ہتھیاروں کو بذات خود ترقی نہیں دے سکتے ہیں۔(۔۔۔)
ہفتہ – 25 ربيع الثاني 1440 ہجری – 13 جنوری 2018ء شمارہ نمبر: (14291)