فلسطینی حکومت کا بیت المقدس کے فیصلہ کے جواب کے سلسلہ میں غور وفکر

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا ایک اختیار ہے رام اللہ: "الشرق الاوسط” آزاد کرانے کی فلسطینی تنظیم کی مرکزی کونسل کی طرف سے کل رام اللہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فلسطینی رہنماء امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلہ کا مناسب جواب دینے کے سلسلہ میں غور وفکر کریں […]

فلسطینی حکومت کا بیت المقدس کے فیصلہ کے جواب کے سلسلہ میں غور وفکر
اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا ایک اختیار ہے

رام اللہ: "الشرق الاوسط”

آزاد کرانے کی فلسطینی تنظیم کی مرکزی کونسل کی طرف سے کل رام اللہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فلسطینی رہنماء امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلہ کا مناسب جواب دینے کے سلسلہ میں غور وفکر کریں گے جس میں انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کی دار الحکومت قرار دیا ہے اور فلسطین کے ان بڑے ذمہ داران کے مطابق جنہوں نے فرانسیسی نیوز ایجنسی سے گفتگو کی ہے کہ دو دن تک چلنے والے اس کانفرنس کے درمیان جن تین اختیارات کے سلسلہ میں گفتگو کریں گے ان میں سے ایک اختیار آزاد کرانے کی فلسطینی تنظیم کی طرف سے عبرانی حکومت کے اس اعتراف کو معلق کرنا ہے جو سنہ 1988 میں ہوا تھا اور ایسا ہونے کی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان اصولوں میں سے ایک اصول میں غور وفکر کیا جائے گا جس کی بنیاد پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سلامتی کوششیں اور معاہدے ہوئے تھے اور یہ وہ فیصلہ جس کی وجہ سے سلامتی کی ساری کاروائی ختم ہو جائے گی۔(۔۔۔)

ہفتہ – 25 ربيع الثاني 1440 ہجری – 13 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14291)