واشنگٹن کی طرف سے دمشق اور ماسکو کے لئے ایک سرخ لائن

دیر الزور کے علاقہ میں اتحادکی طرف سے کی جانے والی بمباری میں شامی انتظامیہ کے 100 سے زائد افراد ہلاک اور روس کی طرف سے الزامات میں وسعت بيروت: نذير رضا – واشنگٹن: ہبة القدسي – ماسكو: رائد جبر کل ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف […]

واشنگٹن کی طرف سے دمشق اور ماسکو کے لئے ایک سرخ لائن
دیر الزور کے علاقہ میں اتحادکی طرف سے کی جانے والی بمباری میں شامی انتظامیہ کے 100 سے زائد افراد ہلاک اور روس کی طرف سے الزامات میں وسعت

بيروت: نذير رضا – واشنگٹن: ہبة القدسي – ماسكو: رائد جبر

کل ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد نے کہا کہ وہ اور شام میں اس کے علاقائی شریک نے پرسو رات دیر الزور میں شامی حکومت کے حامی فورسز پر فضائی حملہ کیا ہے اور یہ اقدام نہر فرات کے قریب بے جا حملہ سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے اور اس منصوبہ کے ذریعہ امریکہ نے ماسکو اور دمشق کے لے ریڈ لائن کھینچبے کا ارادہ کیا ہے۔(۔۔۔)

ایک امریکی فوجی ذمہ دار نے شامی حکومت کے ہمنوا فورسز کے ایک سو سے زائد افراد کی ہلاکت کا اندازہ لگایا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب یہ فورسز اتحاد کی فورسز اور شام کی ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ بر سر پیکار تھیں۔(۔۔۔)

اسی اثناء ماسکو نے لہجہ کو سخت کرتے ہوئے شام میں واشنگٹن کی نقل وحرکت کے خلاف الزامات میں وسعت اختیار کیا ہے اور روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ شام میں امریکی فوجی کا وجود امن وسلامتی کاروائی اور ملک کی وحدت کے لیے چیلنج ہے۔(۔۔۔)

جمعہ – 23 جمادی الاول 1440 ہجری – 09 فروری 2018ء  شمارہ نمبر: (14318)