25 جنوری
"انقلاب 25 جنوری” کو آدھی دھائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، جو اس وقت ہم سب سے اپنے نظریات پر غور کا تقاضہ کرتا ہے۔ جو مصر میں ہوا اس میں کوئی بھی غیر جانبدار یا بے حس یا مایوس کن یا رجائیت پسند عرب نہیں تھے۔ انقلاب […]
"انقلاب 25 جنوری” کو آدھی دھائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، جو اس وقت ہم سب سے اپنے نظریات پر غور کا تقاضہ کرتا ہے۔ جو مصر میں ہوا اس میں کوئی بھی غیر جانبدار یا بے حس یا مایوس کن یا رجائیت پسند عرب نہیں تھے۔ انقلاب کے لئے ابتدائی دنوں میں سماجی تحریک رائے دہندگان، دانشور، طلبا اور غیر سیاسی افراد کو اس میں آگے لائی۔ میں اپنے خیال کے مطابق لوگوں کے اس طبقہ کے جذبات کے خلاف نہیں کھڑا ہونا چاہتا تھا۔ بلکہ میں تو سمجھتا تھا کہ یہ عوامی طوفان عرب نظام کو ہلا کے رکھ دے گا اور اپنے مخالف آمریت کے بادشاہوں کو بہا لے جائے گا۔ مگر اس کے باوجود بطور صحافی "25 جنوری” کی حمایت کرنے پر اور اسی طرح صدر حسنی مبارک کی حکومت کے دفاع میں بھی محتاط رہا۔
تمام عرصہ کے گزر بھی میرا نظریہ تبدیل نہیں ہوا۔ میرا پورے وثوق کے ساتھ یہ ماننا ہے کہ صدر مبارک ایک ناقابل معافی یا ناقابل قبول کمزور انسانی فعل کے مرتکب ہوئے، جب وہ قومی اور تاریخی اہمیت کے پیش نظر واپسی کے وقت سے ناآشنا رہے۔ ان کی فاش غلطیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ مصریوں کا اعتماد بحال نہ کر سکے کہ وہ ان پر کسی وارث کو مسلط نہیں کریں گے اگرچہ وہ اپنی قابلیت کی بنا پر اس وراثت کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔ اس غلطی کی وجہ سے حسنی مبارک سزا کے مستحق ہیں اور اس ویژن کے نقصان کے پر خمیازہ کے مستحق ہیں۔ لیکن حسنی مبارک کا دور استحکام، ترقی، معاشرتی امن وامان اور صحافت وسیاسی بے مثال آزادی سے بھرپور دور تھا۔ وہ پر سکون آئینی منتقلی اور قانونی طور پر باحفاظت نکلنے کی راہ کے حقدار تھے، جس سے مصر کا امن وامان، اسکا استحکام، اس کی معیشت اور عرب و عالمی سطح پر اس کا مقام خراب نہ ہوتا۔۔۔ (جاری ہے)