5 سال بعد سعودی عرب
سلمان الدوسری سعودی عرب تقریبا تین سالوں سے بے مثال انداز میں تبدیل ہوگیا ہے، بڑے پیمانے پر معاشی اصلاح، متوقع سماجی اصلاحات، ریاستی اداروں اور انتظامیہ میں جدت، ان کے قوانین اور قواعد وضوابط میں ترقی، انتہا پسندی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا، بدعنوانی کے خلاف جنگ، وہ منصوبے جو کبھی خواب تھے [&hel
سلمان الدوسری
سعودی عرب تقریبا تین سالوں سے بے مثال انداز میں تبدیل ہوگیا ہے، بڑے پیمانے پر معاشی اصلاح، متوقع سماجی اصلاحات، ریاستی اداروں اور انتظامیہ میں جدت، ان کے قوانین اور قواعد وضوابط میں ترقی، انتہا پسندی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا، بدعنوانی کے خلاف جنگ، وہ منصوبے جو کبھی خواب تھے حقیقت بن گئے، اور پرسوں سعودیہ کے بجٹ نے ہمیں بہترین حیرت میں ڈال دیا کہ جب اعلان کیا گیا کہ آئندہ سال اخراجات کو صرف تیل کی بجائے مختلف ذرائع سے فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ اس بجٹ کا انحصار تیل کی پیداوار پر 50 فیصد، غیر پیٹرولیم پر 30 فیصد، 12 فیصد سالانہ قرضوں پر اور 8 فیصد حکومتی فنڈنگ پر ہوگا۔ کون یقین کرے گا کہ سعودیہ جو کہ تیل پر تقریبا 90 انحصار کرتا ہے وہ صرف تین سال میں اس میں کمی لا کر 50 فیصد تک کر لے گا۔
یہاں ہم وہ لمحہ یاد دلاتے ہیں کہ جب 25 اپریل 2016 کو سعودی عرب کی حیثیت کو عرب و اسلامی اعتبار سے ۔۔۔ سرمایہ کاری کے اعتبار سے ۔۔۔ تین براعظموں کو جوڑنے والے مرکز کے اعتبار سے ایک ضخیم معاشی منصوبے "وژن 2030” کا اعلان کیا گیا تھا۔ (۔۔۔)
مملکت میں حیرت انگیز اندرونی نقل و حرکت کے برعکس علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سعودیہ کی خارجہ پالیسی میں پوزیشن بحالی ہے۔ یہاں پر اٹھنے والے کئی سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ: سعودی عرب نے اس نازک مرحلے میں کیوں اس قدر حساس اور خطرناک فائلیں کھول دیں ہیں؟! یمن میں جنگ، قطر سے قطع تعلق، ایرانی ملیشیاؤں کا مقابلہ اور دیگر فائلیں وغیرہ۔
یہ ایک جائز سوال ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب نے ان فائلوں کو تاخیر سے نہیں کھولا بلکہ ان ریاستوں کے ان زیر التوا بحرانوں نے اسے کھولا ہے اور مملکت سعودیہ نے گذشتہ دو دہائیوں میں بہت کچھ کھویا ہے۔ ریاض نے اب جو کیا ہے وہ صرف ان فائلوں کو بند کرنے کی منصوبہ بندی کے لئے کمر کسی ہے۔ (۔۔۔)
سعودی عرب میں اندرونی اور بیرونی اعتبار سے جاری اس عظیم تحریک سے ملک آنے والے چند سالوں میں ایک بہترین مستقبل پیش کرے گا۔ (۔۔۔)
بھرحال سعودی عرب اپنے شہریوں کی مدد سے، اپنی صلاحتیوں پر اعتماد کرتے ہوئے، خطرات سے کھیلتے ہوئے مستقبل کی جانب چھلانگ لگا رہا ہے۔ 5 سال بعد سب یاد کریں گے کہ یہ کیسے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگیا اور انہیں حقیقت کر دکھایا جبکہ بہت سے اس سے خائف تھے اور اسے ناممکن تصور کرتے تھے۔