سمیر عطاء اللہ

5 مضامین

برما کے مسلمان اور قتل عام

سمیر عطاء اللہ بین الاقوامی سماج وسوسائٹی کے سامنے روہنگا مسلمانوں کے قتل عام کا منظر سامنے ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ قابل شرم عمل اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک کہ ہر مسلمان فوجی ملک سے بنگلہ دیش کی طرف کوچ نہ کر جائے۔ ایک […]

علم کے گہوارے

سمیر عطاء اللہ ستر کی دہائیوں میں مصر کا شمار عالم عربی کا ایک مدرسہ اور یونیورسیٹی کے طور پر ہوتا تھا یا ایک طرف مصر کو مدرسہ اور یونیورسٹی کا ایک بڑا جزء سمجھا جاتا تھا تو دوسری طرف بیروت کو دوسرا جزء شمار کیا جاتا تھا کیونکہ امریکن یونیورسیٹی […]

مسٹر بیل کے ستون

سمیر عطاء اللہ موجودہ دور میں انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ بدلنے والی چیز یہ ہے کہ وہ اب کسی چیز سے حیرت زدہ نہیں ہوتا ہے۔ ہم آج مشینی انسان کے سلسلہ میں پڑھتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم لیلی اور بھیڑیا کا قصہ پڑھ رہے […]

ہندوستان کی آزادی کے ستر سال

سمیر عطاء اللہ آزاد خود مختار ہندوستان نے اپنی آزادی کے ستر سال کا جشن منایا ہے کیونکہ اس ملک میں ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ جشن منانے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ جزیرہ نما ہندوستان جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنی مختلف زبانوں اور تہذیب وتمدن کے ساتھ زندگی […]

ایک فوجی اڈہ اچھے انسان کے نام سے موسوم

سمیر عطاء اللہ مصر کے اندر مشرق وسطی کے سب سے بڑے فوجی اڈہ کا نام صدر محمد نجیب کے نام پر رکھنے کیوجہ تنازعہ برپا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ جمال عبد الناصر کے حق میں توہین ہے جبکہ دیگر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تو 65 […]