بحرین۔۔۔۔ سیاہ فروری کو گزرے 7 سال
سلمان الدوسری 5 مارچ سنہ 2011 کو میں نے بحرین کے حزب اختلاف کے شیعی رہنما علی سلمان کے ساتھ پریس انٹرویو کو ختم کرکے بحرین کے ولی عہد پرنس سلمان بن حمد آل خلیفہ کے ساتھ حصافتی ملاقات کرنے جا رہا تھا۔ اس وقت دارالحکومت منامہ کی شاہراہیں […]
سلمان الدوسری
5 مارچ سنہ 2011 کو میں نے بحرین کے حزب اختلاف کے شیعی رہنما علی سلمان کے ساتھ پریس انٹرویو کو ختم کرکے بحرین کے ولی عہد پرنس سلمان بن حمد آل خلیفہ کے ساتھ حصافتی ملاقات کرنے جا رہا تھا۔ اس وقت دارالحکومت منامہ کی شاہراہیں غیر معمولی منظر پیش کر رہی تھیں (۔۔۔)۔ اور تقریبا پورے ملک میں فرقہ واریت کا سماں تھا جسے عام طور پر رواداری کہا جاتا ہے۔ انتہا پسند حزب اختلاف نے اپنے روزمرہ کے انسانی معمول کو فرقہ واریت کا نام دیا (۔۔۔)۔ وفاقی ہیڈکوارٹر میں ملاقات کے دوران علی سلمان نے متوقع سقوط پر یقین اور فاتحانہ انداز میں گفتگو کی جبکہ سلمان بن حمد نے کہا: "ہمارا ملک ہر بحرینی کے لئے ہے چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ، اگرچہ بحران سخت ہے لیکن ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے اور فرقہ واریت کو اپنے اندر گھسنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے”۔ بحرین میں سیاہ فروری کو گزرنے کے 7 سال بعد، یہی وہ مملکت ہے جو اس وقت شدید بحران سے دوچار ہوئی مگر آج اپنے وفادار سپوتوں کے بل بوتے پر پرامن ہے۔ جبکہ اندرون ملک انتہا پسندوں اور افراتفری پھیلانے والے بیرونی ممالک؛ جیسے قطر اور ایران، کے آلات کار سامنے آتے جا رہے ہیں اور یکے بعد دیگرے زوال پذیر ہو رہے ہیں۔
بحرین نے اپنی بہار ربیع عربی سے تقریبا دس سال قبل 2001 میں شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے اصلاحی منصوبے کے تحت شروع کر دی تھی (۔۔۔)۔ اس اصلاحی عمل میں حزب اختلاف ایک بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔ (۔۔۔) پھر آفت اس وقت آئی جب شیعہ حزب اختلاف نے ان انتہا پسند ملیشیاؤں کے ساتھ اتحاد کیا جو دیگر ممالک میں بادشاہی نظام کو "ربیع العربی” کے نام پر ان کی حکومتوں کو گرانے میں کامیاب ہوئیں۔ حزب اختلاف کا سابقہ 10 سالوں کی کامیابیوں کو کھونا ایک فیصلہ کن دھچکا ثابت ہوا اور اسے ملک میں اپنی تمام تر مشارکت اور حاصل شدہ مراعات سے ہاتھ دھونا پڑا، اور اسے اور پوری دنیا کو ثابت ہوگیا کہ تبدیلی کی کوشش کرنے والے بیرون ملک کو بہت زیادہ خرچ کرنا پڑا جبکہ نتیجہ صرف نقصان رہا۔
جیسا کہ باہر سے نظر آتا ہے، بحرین میں فروری 2011 کے حادثات کے بعد جو ہوا وہ سیاسی بحران نہیں تھا، بلکہ یہ انتہا پسند حزب اختلاف کی جانب سے پھیلایا ہوا فرقہ وارانہ، سیکورٹی اور دہشت گردانہ بحران تھا۔ اس دن سے لے کر آج تک یہ حزب اختلاف مسلسل حقیقی بحران کا شکار ہے۔
بحرین کو سیاہ فروری کے بحران سے نجات پانے لینے کے بعد اب ایک مخلص قومی حزب اختلاف کی ضرورت ہے(۔۔۔)، جو دوسرے ہزارویں سال کی ابتداء میں شروع ہونے والے اصلاحی اقدامات کے سلسلے کا جواب دے، جو مختلف مذاہب، فرقوں اور مسلکوں سے تعلق رکھنے والے اپنے سپوتوں کے مابین اتحاد کا باعث بنے اور حقیقت پسندانہ قومی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے۔