ادلب کی جنگ میں دسیوں مرتبہ روسی حملے
بیروت: "الشرق الاوسط” کل روس کی طرف سے وسیع پیمانہ پر شام کے مغربی شمال میں واقع ادلب گورنریٹ پر فضائی حملہ کیا گیا ہے اور ترکی کی سرحدی علاقوں پر بھی اس کے اثرات رونما ہوئے ہیں اور یہ امید ہے کہ یہ حملے ایک غیر معمولی فوجی کاروائی کا […]

بیروت: "الشرق الاوسط”
کل روس کی طرف سے وسیع پیمانہ پر شام کے مغربی شمال میں واقع ادلب گورنریٹ پر فضائی حملہ کیا گیا ہے اور ترکی کی سرحدی علاقوں پر بھی اس کے اثرات رونما ہوئے ہیں اور یہ امید ہے کہ یہ حملے ایک غیر معمولی فوجی کاروائی کا آغاز ہے جس کا مقصد شام کے اس گورنریٹ سے تنظیم القاعدہ کے متشدد لوگوں کو بھگانا ہے۔
یہ کاروائی اس صبح ہوئی ہے جب روسي صدر فلادیمئر پوٹن اور ترکی صدر رجب طیب اردوغان کی ملاقات انقرہ میں ہوئی ہے اور مخالف جماعتوں کے سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کاروائی کی وجہ سے ترکی حکومت کو بےچین کرنا ہے کیونکہ انہوں نے ہی سرکاری طور پر شام کے شمالی علاقہ میں فائر بندی کا مطالبہ کیا تھا لیکن دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ روسی حملہ ترکی کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کا ایک حصہ ہے جس میں تحریر الشام تنظیم کو ادلب سے بھگانے کی بات کہی گئی ہے کیونکہ اس تنظیم میں القاعدہ کے اہلکار داخل ہیں۔
ہفتہ – 9 محرم الحرام 1439 ہجری – 30 ستمبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14186)