فلائن کے استعفی کی وجہ سے ٹرمپ متاثر
واشنگٹن: خاطر الخاطر امریکی قومی سلامتی کے مشیر کار "مائکل فلائن” کے استعفی کے اثرات کی وجہ سے صدر ڈونالڈ ٹرپ متاثر ہیں اور کانگریس کے نمائندگان نے استعفی دینے والے ذمہدار کا روس کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو کی تحقیق کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ […]

واشنگٹن: خاطر الخاطر
امریکی قومی سلامتی کے مشیر کار "مائکل فلائن” کے استعفی کے اثرات کی وجہ سے صدر ڈونالڈ ٹرپ متاثر ہیں اور کانگریس کے نمائندگان نے استعفی دینے والے ذمہدار کا روس کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو کی تحقیق کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
"فلائن” نے استعفیٰ نامہ میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے منتخب نائب صدر اور دوسرے افراد کو روس کے صدر کے ساتھ فون پر گفتگو کرنے کے سلسلہ میں ناقص معلومات فراہم کرکے گمراہ کیا ہے اور انہوں نے مزید کہا ہے کہ میں سچے دل سے صدر اور ان کے نائب سے معذرت چاہتا ہوں۔
فلائن نے گزشتہ ہفتہ "واشنگٹن پوسٹ” نامی ایک میگزین کے صحافتی بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ روس کے سفیر کے ساتھ ان کے ملک پر لگائی گئیں پابندیوں کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی ہے لیکن ان کے ترجمان نے اس بیان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ "فلائن” کو یقینی طور پر یاد نہیں ہے کہ کیا انہوں نے روس کے سفیر کے ساتھ پابندیوں سے متعلق گفتگو کی تھی یا نہیں۔
رپورٹوں نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ "ٹرمپ” کے چند بڑے مشیر کاروں کو اس سال روس کے ساتھ "فلائن” کی گفتگو کے سلسلہ میں تنبیہ کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ سوالات ہو رہے ہیں کہ اگر "ٹرمپ” کو اس فون کے سلسلہ میں علم تھا تو وہ اس سلسلہ میں متحرک کیوں نہیں ہوئے؟
امریکی پارلیمنٹ میں خارجی امور کی کمیٹی کے ایک بڑے رکن "الیوٹ انگل” نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے انتخابات میں روس کی مداخلت کے سلسلہ میں مکمل تفصیل جاننے کے لئے وسیع پیمانہ پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔
بدھ 19 جمادی الاول 1438ہجری – 15 فروری 2017 ء شمارہ نمبر {13959}