فقہی حکمرانی اور عراقی انتخابات
مشاری الذایدی کیا کوئی عراقی آئینی دستاویز موجود ہے جو سب سے مشہور شیعہ عالم دین کو حکمرانی کا اختیار دے؟ عراقی مصنف و محقق رشید الخیون کے مطالعہ کے مطابق 2005 کے آئین میں کوئی ایسی دستاویز نہیں ہے جو اس نتیجے کی جانب لے جاتی […]
مشاری الذایدی
کیا کوئی عراقی آئینی دستاویز موجود ہے جو سب سے مشہور شیعہ عالم دین کو حکمرانی کا اختیار دے؟
عراقی مصنف و محقق رشید الخیون کے مطالعہ کے مطابق 2005 کے آئین میں کوئی ایسی دستاویز نہیں ہے جو اس نتیجے کی جانب لے جاتی ہو، آئین کے مطابق "عظیم حوالہ جات” کے الفاظ سے مراد "قومی فورسز” ہیں اور یہ آئینی اتھارٹی کے سب سے زیادہ قریب تر بات ہے۔
ہمیں شیعہ سیاسی جماعتوں کی اتھارٹی کربلا یا نجف سے اس بارے میں کوئی نشانی نہیں ملی تو اب سیستانی کی کیا اتھارٹی ہے؟
کیا عراق فقہی حکمران ریاست کی حیثیت رکھتا ہے؟
خاص طور پر عراقی انتخابات اور سیاسی گفتگو کے وقت پر یہ ایک حیرت انگیز سوال ہے۔
تاہم! رشید الخیون نے متحدہ عرب امارات کے اخبار "الاتحاد” میں اپنے اہم کالم؛ زیر عنوان "فقہی حکمرانی ۔۔۔ تو پھر عراقی انتخاب کیوں کریں؟ کے دوران نشادہی کی ہے کہ سیستانی فقہی حکمرانی سے بار بار اپنے آپ کو اس کا اہل مراد لیتے ہیں۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ انکی یہ خواہش ناقابل حل ہے، جیسا کہ سیستانی کے نائب کربلا کے خطیب شیخ عبد المھدی کربلائی نے 13 جون سنہ 2014 کو جمعہ کے خطبہ کے دوران خمینی جیسی فقہی حکمرانی کے بارے میں واضح الفاظ میں کہا تھا۔ (۔۔۔)
تو ایسی صورتحال میں پارلیمانی مقابلہ اور انتخابات کے شیڈول کی حیثیت کچھ اس طرح رہ جاتی ہے: "یہ معاملہ غائب امام کے ہاتھوں میں ہے، جنکے بارے میں کربلائی نے اپنے خطبہ کے دوران تذکرہ کیا تھا کہ وہ زندہ ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھتے اور سنتے ہیں اور اپنے نائب کے ذریعے اس میں مداخلت بھی کرتے ہیں”۔
عراقی مصنف و محقق رشید الخیون نے اپنا ہاتھ دکھتی رگ پر رکھا ہے اور وہ ہے عراق کا نیا سیاسی نظام۔ جی ہاں! یقینا یہ فقہی حکمرانی کا نظام نہیں ہے، حتی کہ بعض شیعہ مذہبی شخصیات ایسی ہیں جو فقہی حکمرانی کے مفہوم کو واضح انداز میں مسترد کرتی ہیں، خواہ یہ واضح انداز میں خمینی کی شکل میں ہو، یا پھر دیگر غیر معمولی شکل میں علماء کی شوریٰ۔
درحقیقت عراق اس قسم کی سنگین فکر کے ساتھ نہیں رہ سکتا اور عراقی اپنی فطرت میں تنوع پسند اکثریتی لوگ ہیں۔ (۔۔۔)
اگر یہ سبق ہے تو عراق، تمام عرب اور تمام مسلمانوں کو پہنچانا ضروری ہے کہ مذہب اور دنیا کے حق میں یہی ہے کہ لوگ مشائخ اور انج یسے نیک لوگوں کی اطاعت نہ کریں۔