الفقہا کے قتل پر اسرائیل کی خاموشی
رام الله: كفاح زبون اسرائیل نے خاموشی سے "حماس” کے الزام کو قبول کیا ہے کہ اس نے ان کی ” كتائب القسام” (نامی ضمنی جماعت) کی ایک اہم قیادت مازن الفقہا کو پرسوں غزہ میں قتل کر دیا ہے۔ مسلح افراد نے غزہ کے جنوب مغربی علاقے تل الہوا نامی محلے میں […]

رام الله: كفاح زبون
اسرائیل نے خاموشی سے "حماس” کے الزام کو قبول کیا ہے کہ اس نے ان کی ” كتائب القسام” (نامی ضمنی جماعت) کی ایک اہم قیادت مازن الفقہا کو پرسوں غزہ میں قتل کر دیا ہے۔ مسلح افراد نے غزہ کے جنوب مغربی علاقے تل الہوا نامی محلے میں الفقہا پر ان کے گھر کے سامنے فائرنگ کر دی جس سے پسٹل کی چار گولیاں ان کے سر میں لگیں اور وہ موقع پر ہی جان بحق ہوگئے۔ جبکہ مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب رہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ فائرنگ سائلینسر پسٹل سے کی گئی۔
اسرائیل اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا ہے، اور اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے الفقہا پر الزام عائد کرتے ہوئے اشارہ کیا ہے کہ سنہ 2002 میں اسرائیل میں ایک بس پر بم حملہ کرنے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جس کے نتیجے میں 9 اسرائیلی کی ہلاک ہو گئے تھے۔ چنانچہ اسرائیل نے سنہ 2003 میں اس الزام کی بنیاد پر الفقہا کو قید کیا اور 9 بار سزا سنائی۔