ماسکو «مکمل حلب» چاہتا ہے جبکہ ادلب اپنی قسمت کا منتظر
روسی – چینی ویٹو جنگ بندی کے منصوبے کو ختم کر رہا ہے ماسکو: طہ عبد الواحد – بیروت: یوسف دیاب اسپین، مصر اور نیوزی لینڈ کی طرف سے عالمی سلامتی کونسل میں پیش کردہ حلب میں 7 روزہ جنگ بندی کے مسودۂ قرار داد کے خلاف کل چین اور روس نے ویٹو کا […]
روسی – چینی ویٹو جنگ بندی کے منصوبے کو ختم کر رہا ہے

ماسکو: طہ عبد الواحد – بیروت: یوسف دیاب
اسپین، مصر اور نیوزی لینڈ کی طرف سے عالمی سلامتی کونسل میں پیش کردہ حلب میں 7 روزہ جنگ بندی کے مسودۂ قرار داد کے خلاف کل چین اور روس نے ویٹو کا حق استعمال کیا۔
دریں اثناء کل روسی وزیر خارجہ "سیرگی لافروف” نے اپنے وضاحتی بیان میں "مکمل حلب” کے دوبارہ حصول اور وہاں سے تمام مسلح گروہوں کو نکالنے کے روسی اصرار کا انکشاف کیا جبکہ روس کی حمایت کے ساتھ حکومت کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے ادلب خود کو حلب کی طرح ہونے سے خوفزدہ ہے۔
لافروف نے کہا کہ حالیہ ہفتے کے دوران حلب شہر کے مشرقی علاقوں کی سنگین صورت حال پر روسی اور امریکی ماہرین کے جینوا میں ہونے والے مذاکرات میں "تمام مسلح عناصر کو نکالنے کی محدود راہوں پر غور سمیت وہ جنگجو افراد جو شہر حلب کو چھوڑنے سے انکار کریں گے تو ان کو خبردار کیا جاتا ہے کہ انہیں دہشت گرد قرار دے کر اسی بنیاد پر ان سے نمٹا جائے گا”۔
لافروف کے اس اعلان کا فوری جواب دیتے ہوئے حلب کے دو مسلح جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ دونوں شہر میں آخر تک لڑیں گی۔