1950 کے متبادل موثر تجارتی معاہدہ کی منسوخی

نیو دہلی: پراکرتی گوپتا ماضی قریب میں پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی گزرگاہوں کو لیکر بہت سارے مسائل واختلافات ظاہر ہوئے ہیں۔ یہ مسائل اس وقت اور سنگین ہوگئے جب پاکستان نے افغانستان کی تجارتی گزرگاہوں پر اپنے اقتدار اور تسلط کو استعمال کرتے ہوئے شامان پوسٹ کے علاقے میں موجود "دوستی گیٹ&#

1950 کے متبادل موثر تجارتی معاہدہ کی منسوخی
3-1

نیو دہلی: پراکرتی گوپتا

ماضی قریب میں پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی گزرگاہوں کو لیکر بہت سارے مسائل واختلافات ظاہر ہوئے ہیں۔ یہ مسائل اس وقت اور سنگین ہوگئے جب پاکستان نے افغانستان کی تجارتی گزرگاہوں پر اپنے اقتدار اور تسلط کو استعمال کرتے ہوئے شامان پوسٹ کے علاقے میں موجود "دوستی گیٹ” کو دو ہفتوں تک بند رکھا، جس کی وجہ سے کابل کی برآمدات کو سخت نقصان پہنچا اور اس کی تجارتی نقل وحرکت بالکل مفلوج ہوگئی۔

نتیجے کے طور پر جب پاکستان نے جولائی کے شروع میں اپنے مسافرین اور تجارتی سامان کی نقل وحرکت کی غرض سے ترخام کی گزرگاہ پر ایک گیٹ وے بنانے کا فیصلہ کیا تو دونوں ملکوں کے درمیان مزید کشیدگی بڑھ گئی۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پچھلے مہینے پاکستان کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے افغانستان کے تجارتی قافلوں کو "وجاہ” تجارتی گزرگاہ سے ہندوستان نہیں جانے دے گا تو افغانستان اس تجارتی گزرگاہ کو بند کردے گا جو پاکستان کو وسطی ایشیاء کے ملکوں سے مربوط کرتی ہے۔ غنی نے کہا کہ اگر پاکستان کو یہ اختیار ہے کہ وہ افغانستان کے راستہ سرحد پار براہ راست ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان تجارتی سامان بھیجے تو پھر ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ جیسے کو تیسا ہمارا بھی حق ہے اور ہم بھی ترکی بترکی اس کا جواب دے سکتے ہیں، لیکن ہم اس مسئلہ کو اس طور پر نہیں دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہمارے ملک اور عوام کے مفاد میں ہوگا اور پاکستانی تجارت کے لئے سود مند نہیں ہوگا۔ افغان صدر نے مزید کہا کہ: "اگر آپ پاکستان اور افغانستان کی حدود پر واقع تورخم تجارتی گزرگاہ کا معائنہ کریں تو آپ دیکھے گے کہ تقریبا 70 سے 80 فیصد افغانستان سے آنے جانے والے مال ٹرک پاکستان کی رجسٹرڈ ملکیت ہیں، اور اگر آپ کابل کے علاقہ باليتشركی میں مال لدے ہوئے ٹرکوں کی جانچ کریں تو آپ کو دونوں طرف پاکستان ہی کے مال ٹرک حرکت کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ افغانستان کے مال ٹرکوں کے لئے پاکستان کے طرف سے لازم قرار دیا گيا ہے کہ وہ اپنے تجارتی مال لاہور میں واقع "وجاہ” گزرگاہ پر اتاریں جہاں سے ان سامانوں کو ہاتھ گاڑیوں کے ذریعہ ہندوستان کے حدود پر واقع "اٹاری” گزرگاہ تک لایا جاتا ہے اور یہاں سے پھر دوبارہ انھیں ہندوستانی مال ٹرکوں میں لاد کر آگے کا سفر مکمل کیا جاتا ہے، پھر دوبارہ یہ ہندوستانی مال ٹرک خالی واپس آتے ہیں۔ کابل نے اسلام آباد سے بارہا یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے مال ٹرکوں کو ہندوستان میں داخل ہونے کی اجازت دے تاکہ ہندوستان اپنے تجارتی سامان افغانستان کو براہ راست بھیج سکے۔ خود ہندوستان نے بھی پاکستان سے اسی طرح کا مطالبہ کیا ہے لیکن اسلام آباد سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ہندوستان کی درخواست کو قطعی طور پر مسترد کرچکا ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان اپنے تجارتی سامان دبی کے طویل تر راستے سے افغانستان بھیجنے پر مجبور ہے، اور اس کے لئے دونوں ملکوں کو اضافی اخراجات کا بار اٹھانا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے جہاں افغانستان نے اپنا اعتراض دائر کیا وہیں ہندوستان کے قائدین اور تاجرون کو بھی اس کا اندازہ ہے کہ پاکستان کے ذریعہ براہ راست تجارتی سامان جانے سے پیسہ اور وقت کی کافی بچت ہے جس کا اعتراف ہندستان کے وزیر آعظم مودی نے خود پچھلے مہینہ دسمبر میں افغانستان کے اپنے دورے کے دوران کیا۔ کابل میں پارلیمنٹ کے سامنے اپنی تقریر میں مودی نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا اور اس سے آگے کے ملکوں کے مابین ایک اہم پل بن سکتا ہے۔ حال ہی میں افغان فورسز نے سرحد پر ایک پاکستانی افسر کو قتل کردیا اور اس جھڑپ میں کئي دوسرے گھائل بھی ہوئے جس کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے مابین مزید کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ اگست کے مہینے میں سرحدی پھاٹک کی تعمیر کا کام مکمل ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں افغانستان کی برآمدات میں جو کراچی سے ہوکر گزرتی ہے، چالیس فیصد گراؤٹ آئی ہے۔ افغانستان پاکستان کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ سخت شروط وپابندیوں پر مشتمل ہے۔