"ڈرون” جہاز کے ذریعے رہائشی عمارتوں پر شامی حکومت کی جانب سے بمباری کی ہولناک ویڈیوز
واشنگٹن: مايكل كيميلمان تباہی بڑے پیمانے پر تھی، حتی کہ وقت گزرنے کے ساتھ احسا س بھی ختم ہو گیا۔ سرسری نظر سے اگر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ 1945ء میں برلین شہر ہے یا 2000ء میں گروزنی کا دارالحکومت ہے، کہ جہاں موت نے تمام ظاہری اختلافات کو مٹا کے رکھ […]

واشنگٹن: مايكل كيميلمان
تباہی بڑے پیمانے پر تھی، حتی کہ وقت گزرنے کے ساتھ احسا س بھی ختم ہو گیا۔ سرسری نظر سے اگر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ 1945ء میں برلین شہر ہے یا 2000ء میں گروزنی کا دارالحکومت ہے، کہ جہاں موت نے تمام ظاہری اختلافات کو مٹا کے رکھ دیا تھا۔
درحقیقت اس تصویر میں ظاہر شامی شہر حلب ہے اور علاقہ مشھد کا ہے یا جو شامی حکومتی فوج اور اسکے حلیف روس کی جانب سے آخری بمباری سے بچ گئے ہیں۔ مصنوعی سیاروں کی سیٹلائٹس ڈش ہولناک بمباری کے نتیجے میں ایسے بکھر گئی اور تباہ شدہ گھروں کے غبار میں ایسے گھل مل گئی ہے جیسے مرجھائے ہوئے پھول ہوں۔
اسی طرح بمباری کے نتیجہ سے پیدا شدہ ملبہ پر لوگ بھوت کی طرح حرکت کرتے ہیں لیکن محلہ میں کسی جانب نکلنا بہت مشکل ہے۔
ہاری لایم نے کہا کہ: کلاسیکی فلم "تیسرا آدمی” جو کہ ویینا میں جنگ کے بعد اسکی کہانی کے گرد گومتی ہے، سے شہرت پانے والی لندن کی فیریس وہیل چیئر پر بیٹھے سوال کرتی نظر آتی ہے "اگر آپکی کسی ایسے ہی مقام پر حرکت رک جائے تو کیا آپ کو تھوڑا سا بھی افسوس محسوس ہوگا؟”۔ اس فلم میں ڈرون کے ذریعے ایسے ہی منظر کی مختصر ویڈیو لی گئی ہے جس میں بمباری کی شورش زدہ تشدد پسند افراد کے خلاف ہلاکت آمیز بمباری کی کاروائی کی تفصیلات دکھائی گئی ہیں۔ اس ویڈیو کیسٹ میں تباہی اوربربادی کی توثیق ہے تاکہ وہ ثبوت رہے، لیکن وہ لوگوں کو زمین پر چلنے والے نقطوں میں بدل دیتا ہے، جیسا کہ لایم نے اپنی فلم میں کہا.
دوسری جنگ عظیم کے بعد، نازی حراستی کیمپ «آشوٹز» سے بچ نکلنے والے افراد نے کیمپ کو یادگار بنانے کیلئے ایک نمائش منظم کرنے میں مدد دی اور وہ جوتے، بال، مصنوعی اشیاء اور بیگوں کے ڈھیر کے ساتھ آئے۔ اس کے پیچھے انکا مقصد قتل وغارت اور ظلم کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنا تھا کہ جب وہ ان سب کا سامنا کر رہے تھے تو انکے ارد گرد کی دنیا اس بارے میں لاعلم تھی یا شاید جاننا ہی نہیں چاہتی تھی کہ کتنے لوگ نازیوں کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے۔ زندہ بچ جانے والے لوگوں نے متاثرین کی انفرادی کہانیوں پر توجہ مرکوز کرنے سے انکار کر دیا، انکا خیال ہیکہ ہر یورپین نے موت کو قریب سے دیکھا ہے اور ہر ایک کے پاس سنانے کو کہانی ہے، اس وقت قتل وغارت کے طریقۂ کار مختلف اور کچھ نئے تھے، نہ کوئی گہری تحقیقات تھیں اور نہ ہی ریکارڈ اور توثیق کی کوئی بنیاد تھی جبکہ آج ہمارے سامنے انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن اور بڑی تعداد میں اخبارات ورسائل میں سب کچھ سامنے ہے لیکن ان سب کی کوئی اہمیت نہیں بے، کیونکہ سینکڑوں لوگ بغداد ميں ايک کار بم دھماکے ميں مر گئے، شامی شہر حلب میں ہزار نہیں بلکہ ہزارہا افراد کو ذبح کر دیا گیا، اعداد وشمار بے اثر ہو گئے، یہاں تک کہ ترکی کے کسی ساحل پہ پڑی دو سالہ ایلان کردی کی لاش کی تصویر پر صرف ایک نظر نہیں ڈالی جا سکتی یا حلب میں بمباری اور تباہی سے دماغی طور پر حواس باختہ سہما شامی ننھا منّا بچہ عمران داکنیش کی ویڈیو جسے ملبے کے نیچے سے نکالا گیا تھا اور وہ ایمبولینس میں بیٹھا اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے خون کے آنسو رو رہا تھا۔ محض ان تصاویر ہی کے مطالعہ سے ان یادوں کو ذہین سے بھلانا ناممکن ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب پناہ گزینوں کے بھوت ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا ہے، جب کہ بےگھر ہونے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ جب بھی کوئی جنگ کی خبر پڑھتا ہے تو اسکے ذہن میں گرد آلود چھ بہن بہائیوں کے چہرے آتے ہیں جو اپنے پاؤں کو بچاتے نظر آتے ہیں، جنکی تصویر اردن کے سرحدی علاقے زعتر میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپ کے باہر تیز ہواؤں کے سامنے مجبور کھڑے ہوئے موبائل کیمرا سے بنائی گئی ہیں۔ اور میں ابھی تک حیرت میں ہوں کہ: انکا یہ حال کیسے ہوا؟
اس وقت دنیا بھر میں تقریبا 65 ملین بے گھر افراد ہیں اور یہ عدد برطانیہ یا فرانس کی آبادی کے برابر ہے۔ یہ مہاجرین مختلف مہاجر کیمپوں میں کم از کم 17 سال گزارتے ہیں۔ اردن کے ان خیموں میں بچے بے سکون اور بے رحم اسلحہ، میزائل اور بمباری سے اپنی جان بچاکر بھاگے ہیں.