تہران کے مدد یافتہ ملیشیا دستے موصل کے اطراف کے معرکوں میں عصاب شکن میزائل استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ تلعفر پر ایرانی جاسوس کی نظریں ۔

مناف عبیدی اربیل: کرکوک، دلشاد عبداللہ: لندن (الشرق الاوسط) شہر موصل کے اطراف میں زبردست معرکوں کے وسط میں عراقی فوج نے آج دوسرے روز بھی شہر قرہ قوش (حمدانیة) نینوی کی کشادہ زمین میں عیسائیوں کے بڑے شہر سے داعش تنظیم کے ہتھیاربندوں کو نکالنے کے لیے اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ اعلی […]

تہران کے مدد یافتہ ملیشیا دستے موصل کے اطراف کے معرکوں میں عصاب شکن میزائل استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ تلعفر پر ایرانی جاسوس کی نظریں  ۔
18-1

مناف عبیدی اربیل: کرکوک، دلشاد عبداللہ: لندن

(الشرق الاوسط)

شہر موصل کے اطراف میں زبردست معرکوں کے وسط میں عراقی فوج نے آج دوسرے روز بھی شہر قرہ قوش (حمدانیة) نینوی کی کشادہ زمین میں عیسائیوں کے بڑے شہر سے داعش تنظیم کے ہتھیاربندوں کو نکالنے کے لیے اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

اعلی سطحی عراقی مصدر نے ایران کے بارے میں یہ انکشاف کیا کہ روس کے ساتھ مفاہمت کے بموجب اس نے موصل اور شام کی سرحدوں کے درمیان تلعفر شہر میں اپنے جاسوس رکھے ہوۓ ہیں تاکہ داعش کے مسلح عناصر کو شام کی جانب بھاگنے سے روکا جاۓ؛ یہ کام شہر میں ایران کے حمایت یافتہ عوامی ملیشیا دستوں کو پھیلا کر کیا جا رہا ہے۔ مصدر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ امریکی حکمت عملی جو موصل کو آزاد کرانے کے منصوبے سے متعلق ہے اسے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی تک پہنچایا جا چکا ہے کہ تنظیم کے جنگجو‏ؤں کو عراقی شامی سرحدوں کی جانب بھگانے کے لیے کھلی فضا مہیا کرنے کی بنیاد پر قائم ہے جبکہ ماسکو اس کی مخالفت کرتا ہے۔

عراق کے ایک بڑے ذمہ دار نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ (ایرانی اور عوامی جم گھٹا اہل تشیع کے لیے اہمیت کے باعث اور موصل میں داخل ہونے کا ذریعہ بنانے کی خاطر تلعفر پر کنٹرول کرنے کا عزم رکھتے ہیں)، انہوں نے مزید کہا: "لیکن وہ شام میں جنگ پر اثر ڈالنے کی خاطر اسے ایک وسیلہ بھی بنانا چاہتے ہیں” جبکہ شمالی عراق میں بکارہ قبائل کے لیڈر شیخ جمعۃ الدوار نے باور کرایا کہ ایرانی ساخت کے میزائلوں کی اندھا دھند بمباری سے شہر موصل میں محاصر دسیوں باشندے ہلاک اور زخمی ہو گئے، قبائلی سردار نے یقین دہانی کی کہ یہ ملیشیا دستے موصل کے معرکے میں اعصاب شکن میزائل بھی استعمال کر رہے ہیں، دوار نے بین الاقوامی حلقوں سے اپیل کی ہے کہ عراقی حکومت اور بین الاقوامی اتحاد پر بمباری کے ذریعے قتل عمد سے شہریوں کی حمایت کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنے کی خاطر دباؤ ڈالا جاۓ۔

دریں اثنا موصل میں محاصرین نے (الشرق الاوسط) کے ساتھـ فون پر شہر میں نامعلوم انتظار کے دوران خوف اور ڈر کے بارے میں بتاتے ہوۓ اس جانب اشارہ کیا کہ سڑکیں سنسان اور تجارتی دکانیں بند پڑی ہیں، شہر کے باسیوں نے خورد و نوش کی کچھ اشیاء جمع کرنے کی کوشش کی جبکہ یہ خبر ملی ہے کہ (دعش) کے جنگجوؤں نے کئی سرکاری عمارتیں دھماکوں سے اڑا دی ہیں ان میں گورنریٹ (صوبہ) کی عمارت بھی شامل ہے ۔