نوبل انعام یافتہ مرحوم اٹالوی ادیب جس نے مزاح کو روشن خیالی کا ذریعہ بنایا
لندن: ندی حطیط اگر آپ کی یہ خواہش ہو کہ آپ ایک تعلیم یافتہ شخص کی حیثیت سے ورکنگ کلاس طبقہ کی نمائندگی کریں اور بائیں بازو کے اطالوی مفکر انٹونیو گرامسکی کے اصول ونظریات کے مطابق بورژوا طبقے کی بالادستی کے خلاف ایک خاص کلچر کو پروان چڑھائیں تو آپ کو اداکار، آرٹسٹ، […]

لندن: ندی حطیط
اگر آپ کی یہ خواہش ہو کہ آپ ایک تعلیم یافتہ شخص کی حیثیت سے ورکنگ کلاس طبقہ کی نمائندگی کریں اور بائیں بازو کے اطالوی مفکر انٹونیو گرامسکی کے اصول ونظریات کے مطابق بورژوا طبقے کی بالادستی کے خلاف ایک خاص کلچر کو پروان چڑھائیں تو آپ کو اداکار، آرٹسٹ، ڈرامہ نگار اور عالمی سرگرم کارکن ڈاریو فو (1926- 2016) سے بہتر کوئی شخصیت نہیں ملے گی، جن کا پچھلے ہفتہ 90 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ اس سرفروش اطالوی کی پوری زندگی ظالم حکومتی اداروں، چرچ کے ظلم وستم، اور امریکی سامراجی مخالف جدوجہد میں گزری۔ یہ شخص پوری زندگی اپنی شاہکار مولفات، ڈراموں، اور پینٹنگز کیوجہ سے پوری دنیا میں بحث ومباحثہ کا موضوع بنا رہا۔ اس اٹالوی ادیب کو تقلیدی مزاحیہ ڈرامہ "جیولاری” کو نئے قالب میں ڈھالنے اور فعال بنانے کی کامیابی پر سن 1997ء میں نوبل انعام سے نوازا گيا۔ یہ تقلیدی ڈرامہ قرون وسطی میں بہت مشہور تھا اور اسے کافی شہرت حاصل تھی کیوں کہ فی البدیہ اور برجستہ کامیڈی ڈراموں کو ظالم حکمراں کے خلاف بطور آلہ استعمال کیا جاتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاریو کی اصل اور سب سے اہم کامیابی یہ ہے کہ اس نے خود کو اپنی طویل تر زندگی میں عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک تعلیم یافتہ شخص کی حیثیت سے تسلط، ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے کے لئے جدوجہد کی۔ دراصل ڈاریو عصر حاضر میں اطالوی مفکر انٹونیو گرامسکی کی زندہ تصویر تھا جس نے ظلم وجبروت اور تسلط کے خلاف پورے عالم کو متحرک وفعال کرنے کی کوشش کی۔ نوبل انعام حاصل کرتے وقت اس نے اپنے لیکچر میں جو کہا وہ اپنے آپ میں ایک مثالی اور چیلنج کن گفتگو تھی۔ اس نے اپنے لیکچر میں کہا کہ ہمارا مشن اطالوی شاعر سافینیو کی فکر وتعلیم کے مطابق یہ ہونی چاہیئے کہ ہم واقعات کو تفصیل سے کیسے بیان کریں اور انھیں نقل کریں۔ ہم تعلیم یافتہ طبقہ کا یہ مشن ہونا چاہیئے کہ ہم تھیٹروں اور منبروں پر چڑھ کر عام وخاص سب سے مخاطب ہوں اور عوام سے گفتگو کریں خاص طور پر نوجوان طبقے سے محو تخاطب ہوں۔ ہم انھیں صرف بیان کاری اور اظہار کے طریقوں نیز اداکاری کی ٹیکنک سیکھانے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ہمارا مشن یہ ہونا چاہیئے کہ ہم ان کی ایسی تربیت کریں کہ ان کے اندر ادراک کی وہ کیفیت پیدا ہوجائے جس کے ذریعہ وہ اپنے آس پاس ہونے والے احداث وواقعات کا ادراک کرسکیں اور ان کے اندر اتنی قدرت ہو کہ وہ اپنے احوال اور اپنے اندر کے جذبات کو تفصیل سے بیان کرسکیں۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ تھیٹر کا کوئی شو، کوئی ادبی متن، یا کوئی فن اگر وہ اپنے زمانہ کو محیط نہ ہو تو بے سود ہے اور اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ درحقیقت فو نے ایک چوٹی کے معاصر ڈرامہ نگار اور آرٹسٹ کی حیثیت سے کسی ظالم کے سامنے جھکے یا مصالحت کئے بغیر اپنے انقلابی مشن کو جاری رکھا۔ اپنی اہلیہ فرانکہ رامیہ کو اپنے فنی کاموں میں شریک بناکر فو نے علم وفن کے میدان میں شراکت کے امکان کے حوالے سے ایک اعلی مثال قائم کی۔ اس نے اپنی اہلیہ کو نہ صرف اپنے فنی کاموں میں شریک کیا بلکہ اسے نوبل انعام کا برابر حصہ دار بنایا۔ باوجودیکہ دونوں کو ازدواجی اور فنی زندگی میں بعض اوقات سخت حالات سے گزرنا پڑا بلکہ بعض مرتبہ تو حالات اور تعلقات اس قدر خراب ہوگئے کہ اسکی بیوی نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں سن 1987ء میں صراحت کے ساتھ یہ بیان دیا کہ ان کے ازدواجی تعلقات ٹوٹ چکے ہیں، اس کے باوجود آپسی تفاہم اور محبت نے دونوں کو پھر سے فرانک کی سن 2013ء میں موت سے پہلے ایک کردیا۔ اپنے شوہر کی طرح فرنکا بھی ایک اچھوتی اور جدت پسند خاتون تھی، باوجودیکہ بعض اوقات اپنے شوہر کی شہرت کی خاطر اس نے ڈراموں میں دوسرے درجہ کا رول ادا کرنا قبول کیا، لیکن اس عمل سے ایک باکمال فنکار اور آرٹسٹ کی حیثیت سے اس کی قدر قیمت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ اپنے شوہر کے فنی کاموں میں شرکت کے علاوہ اس کے سیاسی جد وجہد میں بھی ہم رکاب رہی اور جس کی وجہ سے سن 1973ء میں کچھ فاشسٹ افراد نے اسے اغوا کرلیا اور اس کے ساتھ ظلم وزیادتی کا معاملہ کیا۔ بعد میں یہ راز کھلا کہ ان افراد کا تعلق دائیں بازو کی حکمران پارٹی سے تھا۔
فو کی ولادت شمال اٹلی کے ایک عام طبقہ کے غیر معروف گھرانے میں ہوئی۔ اس کے والدین بائیں بازو کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ شخص تھے۔ والدین کی ملازمت کے پیش نظر ان کے گھرانے کو متعدد بار اٹلی کے شمالی علاقوں میں مختلف جگہوں پر منتقل ہونا پڑا جو فو کے حق میں ایک مثبت عنصر ثابت ہوا اور اسے بہت ساری نئي چیزیں سیکھنے کو ملیں۔ اسے مقامی کلچر سے خاص لگاؤ رہا جس کی وجہ سے اس کا گھرانا جہاں بھی منتقل ہوتا وہ وہاں کے مقامی کسانوں کے گیت گانے نیز ان کے دلچسپ قصے کہانیاں سنتا اور ان سے لطف اندوز ہوتا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ اپنے والدین کے تعاون سے فاشیوں کے ساتھ جنگی خدمات انجام دینے سے راہ فرار اختیار کیا۔ اس کے والدین اس وقت بائيں بازو کی سیاسی مقابلہ کرنے والی اٹلی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ جنگ کے بعد فو نے فیصلہ کیا کہ وہ اٹلی کے شمالی علاقہ کے دار الحکومت میلانو میں فن کی تعلیم حاصل کرے گا لیکن پھر اس نے سول انجئنیرنگ میں داخلہ لے لیا، لیکن انجینئرنگ کے سخت اصول وضوابط نے اس کے اعصاب پر برا اثر ڈالا جس کی وجہ سے وہ اسے مکمل نہ کرسکا۔ اس طرح ایک لیڈی ڈاکٹر کی نصیحت کہ: "انسان کو وہ کام کرنا چاہیئے جسے کرتے ہوئے اسے مزہ آئے اور خوشی حاصل ہو”، فو نے تھیٹر آرٹسٹ کی تعلیم حاصل کی اور اسی کا ہوکے رہ گيا۔