باسیل: عون "حزب اللہ” کے حلیف تھے- اور آج سارے لبنانیوں کے حلیف ہیں
لبنانى وزیر خارجہ نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب سے بہتر تعلقات بنانے کا خواہاں ہے بیروت: ثائر عباس لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسیل نے اپنے ملک کی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی رغبت ظاہر کی […]
لبنانى وزیر خارجہ نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب سے بہتر تعلقات بنانے کا خواہاں ہے

بیروت: ثائر عباس
لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسیل نے اپنے ملک کی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی رغبت ظاہر کی ہے- انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے دن اچھے ہوتے جا رہے ہیں- انہوں نے سعودی عرب کے لبنان کے ساتھ بہتر تعلقات کی امید بھی ظاہر کی اور یہ کہ لبنان سعودی عرب کا مہمان نواز اور وہاں کے تمام باشندوں کا خیرمقدم کرتا ہے تاکہ اس کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں اور ہم طبیعی کیفیت کی طرف اس طرح پلٹ جائیں جس میں لبنان اور سعودی عرب دونوں کے مابین خیر وبھلائی ہو اور اس موضوع میں دونوں کا مستقبل تابناک اور روشن ہو”۔
باسیل (جو کہ موجودہ صدر العماد میشل عون کے داماد ہیں اور ان کے دایاں ہاتھ بھی) نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ عربی دنيا کی جانب لبنانی صدر کی نگاہ "مثبت پہلو سے بھی زیادہ” ہے-
انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ صدر عون (حزب اللہ) کے حلیف تھے جب وہ پارلیمانی تبدیلی واصلاح گروپ کے صدر تھے، لیکن اب وہ ملک کے صدر منتخب ہو گئے اسلئے تمام لبنانیوں کے حلیف بن گئے۔
ایک جانب جہاں باسیل نے یہ اعتراف کیا کہ جسے "حزب اللہ” کہا جاتا ہے وہ در اصل "شام میں مداخلت کرنے والی جماعتوں میں سے ہیں” وہیں پر یہ بھی کہا کہ یہ صورت حال کافی تکلیف دہ ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ تمام جماعتیں وہاں سے مکمل طور پر نکل جائیں اور شام کو شامی عوام کے حوالے چھوڑ دیں تاکہ موجودہ فوجی صورت حال نیز دہشت گردی کی جنگ کا خاتمہ ہو اور شام میں ایسا نظام قائم ہو سکے جو تمام شامی عوام کو خوش رکھ سکے۔
باسیل نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ وزیر اعظم سعد الحریری کے ساتھ کسی بھی لبنانی کے خلاف کوئی سودا نہیں ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کی تمام سیاسی دھڑوں کے مابین مکمل طور پر تعاون ہے، انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ یہی تعاون ہی کامیابی وکامرانی کا ضامن ہے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں عہدوپیمان، حکومت اور ملک میں ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے۔