ایران کا جوہری معاہدہ خطرے میں۔۔ امریکی وزرات خارجہ
"پالیسیوں کی وضاحت”۔۔۔ ٹرامپ کے بارے دنیا کے لیڈروں کے اندیشے وخیالات لندن: عادل السالمی واشنگٹن: الشرق الاوسط امریکی صدارت کے لئے ریپبلکن امیدرار ڈونالڈ ٹرامپ کی فتح کے بعد ایران کا جوہری معاہدہ خطرے میں پڑگیا ہے، منتخب صدر کے سابقہ وعدوں کو پورا کرنے کے مطابق جس کے بارے میں [&hell
"پالیسیوں کی وضاحت”۔۔۔ ٹرامپ کے بارے دنیا کے لیڈروں کے اندیشے وخیالات

لندن: عادل السالمی
واشنگٹن: الشرق الاوسط
امریکی صدارت کے لئے ریپبلکن امیدرار ڈونالڈ ٹرامپ کی فتح کے بعد ایران کا جوہری معاہدہ خطرے میں پڑگیا ہے، منتخب صدر کے سابقہ وعدوں کو پورا کرنے کے مطابق جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ کی طرف سے کیا گیا یہ سب سے بدترین معاہدہ ہے، اسے ختم کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے کی بات ایک بار پھر سیاسی اور میڈیائ منظرنامہ پر لوٹ آئ ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے پرسوں اس معاہدے کو ختم کرنے کے احتمال کی بات کو مزید یقینی بنایا اور ساتھ ہی باراک اوباما کی انتظامیہ کمیٹی کی پالیسیوں اور مباحثات کا بھی دفاع کیا جسکی کی بناء پر یہ معاپدہ حتمی شکل اختیار کیا تھا، ٹونر کا یہ بھی کہنا ہے کہ "تمام لوگوں کی مصلحت اسی میں ہے کہ تمام اطراف جوہری معاہدے کے مطابق ہی کام کریں”، انہوں نے اس بات کو بعید از امکان نہیں سمجھا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدہ کو ختم کرنے کی صورت میں ایران جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے لیس ہونے پر مجبور ہوگا۔
وہیں ٹرامپ کے مشیر برائے امور خارجہ ولید فارس نے بی بی سی (BBC) کو دیئے ایک بیان میں کہا کہ نئی انتظامیہ کمیٹی یہ چاہتی ہے کہ وہ جوہری معاہدے پر نظر ثانی کرنے اور پھر اسے کانگریس کی طرف تحوہل کردے ، انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ کمیٹی ایران سے اس کے مذکرہ میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کرے گی۔
اسی ضمن میں یورپین لیڈروں کی نومنتخب صدر سے ہونے والی گفتگو میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان لیڈروں نے نومنتخب صدر کی پالیسیوں کے تیئیں تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ مسائل جو ان سب کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتے ہیں ان سے متعلق وہ اپنے موقف کو واضح کریں۔
فرانسیسی صدر فرانسوا ہولانڈ نے کل یہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ٹرامپ کے ساتھ فون پر گفتگو کرکے یہ طلب کیا کہ وہ اپنے موقف کی وضاحت کریں۔ الیزیہ میں ایک قریب ترین ذرائع نے یہ کہا کہ ہولانڈ نے بہت ہی اہم مسائل سے متعلق موقف کی وضاحت طلب کی ہے مثال کے طور پر مشرق وسطی اور اوکرانیا کے مسائل کے بارے میں اور اسی طرح ،برطانیہ کی وزیر اعظم ٹیریزا نے دونوں ملکوں کے تعلقات "بہتر” بنے رہنے کی تاکید کی ہے۔
ٹرامپ کو مبارکباد دیتے ہوئے مائی نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی کہ تجارت اور سرمایہ کاری کو تقویت ملے وہ بھی ایک ایسے وقت میں یہ بات کہی جب برطانیہ یورپی اتحاد سے نکلنے کی کوشش میں ہے، مائی نے ریاست ہائے امریکہ کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ کرنے کی امید بھی ظاہرکی۔
امریکی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد جرمنی چانسلر انجیلا میرکل نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی فوجی اور اقتصادی طاقت کی روشنی میں عالمی ترقی کے لئے اپنی جانب سے نومنتخب صدر کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی۔