عربى شاعرى اكيڈمى کی طرف سے "التحلیل السیمائی للخطاب الشعري – شعری خطاب کا علامتی تجزیہ ” نامی کتاب کی اشاعت
دمام: "الشرق الاوسط” ابوظہبی میں عربى شاعری اکیڈمی نے پچھلے دنوں "التحلیل السیمائی للخطاب الشعری۔ ۔ معالجة مستوياتية لقصيدة شناشیل بنت حلبی " شعری خطاب کا علامتی تجزیہ شناشیل بنت حلبی نامی قصیدہ کے معیاروں کا موضوعی مباحثہ” نامی ایک کتاب شائع کی ہے، یہ کتاب جزائری ن

دمام: "الشرق الاوسط”
ابوظہبی میں عربى شاعری اکیڈمی نے پچھلے دنوں "التحلیل السیمائی للخطاب الشعری۔ ۔ معالجة مستوياتية لقصيدة
شناشیل بنت حلبی "
شعری خطاب کا علامتی تجزیہ
شناشیل بنت حلبی نامی قصیدہ کے معیاروں کا موضوعی مباحثہ” نامی ایک کتاب شائع کی ہے، یہ کتاب جزائری ناقد ڈاکٹر/ عبد الملک مرتاض کی تالیف ہے۔
مرحوم عراقی شاعر بدر شاکر السیاب کے قصیدہ "شناشیل ابنة الجلبی” کا اس کتاب میں تجزیہ کیا گيا ہے، مصنف نے لفظ "شناشیل” کی بھی وضاحت کی ہے۔ یہ عراق میں معروف و مشہور جھروکھے سے عبارت ہے جو بند ہے اور رنگ برنگ کے شیشوں سے سجا ہوا ہے۔
گویا کہ وہ اندر سے باہر کی جانب احساس خیال ونقطہ نظر کو منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، یعنی کہ تنگ دائرے سے وسیع دائرے کی جانب۔ یہاں آنکھوں کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ باہر روشن اور کشادہ دنیا کو تنگ زاویئے سے دیکھ سکے۔
کتاب نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ جلبی کی لخت جگر بھی ایک انسان ہی ہے، تاہم شاعر کی محبت کی بناء پر وہ بکھرنے کی بھی قابل ہے جس نے صرف اس کے اندر اچھی صفات کو دیکھتے ہوئے اس سے محبت کی ہے اور اس کے قالب میں میں کچھ ایسے صفات بھی ہیں جس نےاسکو گرویدہ بنا لیا.۔
عبد الملک مرتاض کی اکیڈمک زندگی میں یہ کتاب ایک اہم تنقیدی تجربے کی نمائندگی کرتی ہے، ان سے ایسا کبھی نہ ہوا کہ وہ کسی دن اسے ترقی دینے کی کوشش سے باز رہے ہوں ، اس کے طریقہ کار کو مستحکم بنائیں اس کے آلات کو مضبوط کریں بایں طور کہ ایسا اسلوب وجود میں آجائے جس کو نمونہ بنایا جاسکےاور تقلید کی جائے ۔
یہ کتاب ١٨٥ صفحہ پر مشتمل چھوٹے سائز میں رنگین طباعت کے ساتھ شائع ہوئی ہے، ڈاکٹر عبد الملک مرتاض اس کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں کہ اس کتاب میں مختلف معیار کے مطابق ایک قصیدہ کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اور حقیقت میں یہ کتاب ایک دلچسپ تجربہ ہے اور موجودہ نقد عربی میں اسے ایک بنیاد کی حیثیت حاصل ہے، مصنف صاحب کی یہ امید ہے کہ قارئین حضرات اس کتاب سے اتنا فائدہ اٹھائیں جتنی محنت ان کو اس کتاب کی تصنیف میں لگی ہے۔
یہ نئی کتاب تین مستویات پر مشتمل ہے ، پہلے مرحلے کا عنوان "التشاكل والتباين في لغة السياب الشعرية” ہے یعنی (سیاب کے شعری زبان میں تشابہ اور تضاد) اور جہاں تک دوسر مرحلے کی بات ہے تو اس میں سیاب کے نزدیک شعر کی زبان میں شعری جانب داری کا ذکر ہے جبکہ تیسرا مرحلہ مشابہت اور یکسانیت کے تجزیوں پر مشتمل ہے۔