جرمنى كے چار سكولوں ميں عربى زبان وثقافت كى تعليم

جرمنی میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا انیشٹیو ہے، جہاں پر کلچر سنٹر برائے تعلیم عربی زبان و ثقافت نے سال رواں کے آغاز سے ہی سرکاری اسکولوں میں عربی زبان پڑھانے کے لئے ضلع بافاریا کی انتظامیہ سے اجازت لینے میں کامیابی حاصل کی۔ يہ سنٹر شہر ميونخ ميں ہر ہفتے چار سكولوں ميں […]

جرمنى كے  چار سكولوں ميں عربى زبان وثقافت كى تعليم

جرمنی میں اپنی  نوعیت کا یہ پہلا انیشٹیو ہے، جہاں پر کلچر سنٹر برائے تعلیم عربی  زبان و ثقافت نے سال رواں کے آغاز سے ہی سرکاری اسکولوں میں عربی زبان پڑھانے کے لئے ضلع بافاریا کی انتظامیہ سے اجازت لینے میں کامیابی حاصل کی۔

%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%a9-%d9%84%d8%ba%d8%a9-%d8%a7%d9%84%d8%b6%d8%a7%d8%af

يہ سنٹر شہر ميونخ ميں ہر ہفتے چار سكولوں ميں گیارہ گھنٹے عربی زبان کی تعلیم دیتا ہے- ("الشرق الاوسط”)

عربی  زبان و ثقافت کی تعلیم کا ثقافتی مرکز اپنی  بنیاد رکھے جانے کے وقت سے  جرمن معاشرے میں تونسی اور عربی کمیونٹی کے انضمام کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن سال رواں سے وہ اپنا دائرہ کار وسیع کر سکے گا تاکہ وہ زبان پر بھی کام بڑے پیمانہ پر کرسکے اور پہلے مرحلے میں اسے  شہر میونخ کے سرکاری مدارس میں  داخل کراسکے۔ اور اگلے مرحلے میں سنٹر اس تجربہ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لئے منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ اس تجربہ کے  مطابق دوسرے قریبی شہروں مثلا  فرانکفورٹ، بون اور کولون بھی اس منصوبے میں شامل ہو سکیں ۔

اپنی جانب سے، سنٹر کی بانی و ڈائرکٹر محترمہ سماح بلحاج سعد یقین رکھتی ہیں  کہ جرمنی کے  نصاب تعلیم میں عربی زبان کا اندراج غیر ملکی نسلوں کے نوجوانوں میں انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو محدود کرے گا۔ انجینئیر اور سائنسی محققہ تونسی نژاد سماح نے سنہ 2001ء میں جرمنی ہجرت کی ۔  شہر میونخ میں عربی زبان و ثقافت کی تعلیم کے لئے اپنے  منصوبے کے اغاز کی تیاری کر رہی ہیں-