"ہيومن رائٹس واچ” کی طرف سے حوثی اور صالح کے جرائم کی مذمت

ماہ رواں کے اغاز میں یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی کے صنعا کے دورے کے دوران احتجاج کرتی یمنی خواتین کے ہمراہ ایک چھوٹی بچی (رویئٹر) عدن: بسام القاضی یمنی نوجوان ولید الابی کی بیوی کی آنکھوں کا آخری منظر تھا، جب اس کے شوہر کو گزشتہ جمعرات کو صنعا میں حوثی […]

"ہيومن رائٹس  واچ” کی طرف سے حوثی اور صالح کے جرائم کی مذمت
faraz-ph-4

ماہ رواں کے اغاز میں یمن کے لیے  اقوام متحدہ کے ایلچی کے صنعا کے دورے کے دوران احتجاج کرتی یمنی خواتین کے ہمراہ ایک چھوٹی بچی (رویئٹر)

عدن: بسام القاضی

یمنی نوجوان ولید الابی کی بیوی کی آنکھوں کا آخری منظر تھا، جب اس کے شوہر کو گزشتہ جمعرات کو صنعا میں حوثی اور صالح کے ملیشیادستوں نے اغوا کیا تھا، اسکی بیوی اپنے اس شوہر کے ارد گرد ان كرايہ جنگجووں کی تعداد کا احاطہ نہیں کرسکتی جن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا  جس سے دو ماہ قبل ہی اس کی شادی ہوئی تھی اور وہ لوگ یمنی دار الحکومت کی تقوی نامی مسجد کے قریب جراف نامی گاؤں سے طاقت کے بل بوتے پر اسے کھینچ کر لے گئے ، کل فوجداری تحقیق کے جیل میں اس کے انتقال ہونے کا اعلان کر دیاگیا۔

یہ جرم اور وہ بیوہ عورت کی حالت یہ دونوں جولائی 2014 میں طاقت وقوت کے ذریعہ ملک پر قبضہ کرنے کے بعد سے یمنی باغیوں کے جرائم میں سے صرف ایک جرم ہے اسی وجہ سے بین الاقوامی تنظیموں نے یمن میں حقوق انسانی کو پامال کرنے سے خبردار کیا ہے

کل انسانی  حقوق پر نگاہ رکھنے والی تنظیم نے صالح اور حوثی میلیشیادستوں  پر مخالفین  کے بہت سے افراد کو اغوا کرنے  اور یمن کے قانونی حکومت کا تختہ پلٹ کر اس کی دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرنے کے بعد لوگوں کی من مانی گرفتاری اور ان کو سز دینے کا الزام لگایا ہے

تنظیم کی مشرق وسطی شاخ کی مینیجنگ ڈائرکٹر  سارہ لیا ویٹسن نے کہا کہ تنازع کسی کو دشمن سمجھ کر اذیت  دینے یا اغوا کرنے کا جواز پیش نہیں کرتا ہے اور مستقبل میں صنعاء کی موجودہ حکومت کے خلاف مقدمے چلائے جائیں گے اگر ان لوگوں نے گرفتار لوگوں کو آزاد کر کے ان کو ان کے گھر واپس نہیں کیا تو اسی طرح تنظیم نے گرفتاری کی حالت میں ہلاک ہونے والے اشخاص سے ان کی سزا کی حالتوں اور ان نام اور وقت سے متلق مثالیں بھی پیش کیں-