مصر کو تیل فراہم کرنے کا معاہدہ عطیہ پر مبنی نہیں۔ ۔ ۔ تجارتی بنیاد پر ہے
الخبر: وائل مہدی ماہانہ بیس لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرنے کا مصر کے ساتھ معاہدہ جس کا کچھ دنوں پہلے اعلان کیا گيا اس کے حوالے سے ایک باخبر کویتی ذمہ دار نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اس پٹرولیم مواد کی ڈیل کا بدیل نہیں ہے جو سعودی عرب کی ارامکو […]

الخبر: وائل مہدی
ماہانہ بیس لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرنے کا مصر کے ساتھ معاہدہ جس کا کچھ دنوں پہلے اعلان کیا گيا اس کے حوالے سے ایک باخبر کویتی ذمہ دار نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اس پٹرولیم مواد کی ڈیل کا بدیل نہیں ہے جو سعودی عرب کی ارامکو کمپنی قاہرہ کو بھیجتی تھی۔
بلومبرگ ایجینسی نے ایک ذمہ دار سے اس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کویت نے ماہانہ بیس لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرنے کے معاہدے کی تجدید کی ہے، یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ذرائع نے اس بات کی نفی کی ہے کہ یہ معاہدہ اس پٹرولیم مواد کے معاوضہ سے منسلک ہو جو سعودی عرب کی ارامکو کمپنی مصر کو بھیجا کرتی تھی۔
مزید اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ یہ معاہدہ کوئي نیا معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ مصری پٹرولیم اتھارٹی اور کویت پٹرولیم کارپوریشن کے مابین پچھلے معاہدے کی توسیع ہے۔ آنے والے جنوری کے آغاز سے لے کر اس کی مدت تین سال کی ہوگی۔
یہ بیانات وضاحت کے طور پر مصری ذرائع ابلاغ میں اس خبر کے لیک ہونے کے بعد سامنے آئے جس میں یہ کہا گيا کہ کویت مصر کو ان پٹرول کی کھیپ کی تلافی کرے گا جس سے مصر ہاتھ دھو بیٹھا ہے بایں طور کہ سعودی عرب کی ارامکو کمپنی نے پچھلے اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات مصر کو دینا بند کردیا ہے۔
ذرائع نے مزید یہ بھی بتلایا کہ یہ معاہدہ مصر کے حق میں کسی ترجیحی شروط پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک تجارتی معاہدہ ہے جو تجارتی بنیادوں پر قائم ہے، اس معاہدے کے تحت مصر کو عالمی ریٹ کے حساب سے تیل فروخت کیا جائے گا۔