مصری شہری تنظیموں کے قانون اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے اعتراضات کی وجہ سے ایک بحران
قاہرہ: ولید عبد الرحمن غیر سرکاری علاقائی انجمنوں کے قانونی لائحۂ عمل کے سلسلہ میں مصری پارلیمنٹ کے فیصلہ کی وجہ سے ایک نیا بحران سامنے آیا ہے جبکہ اس کے رد عمل میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے زبردست اعتراضات کئے گئے ہیں۔ سرگرم کارکنوں کا […]

قاہرہ: ولید عبد الرحمن
غیر سرکاری علاقائی انجمنوں کے قانونی لائحۂ عمل کے سلسلہ میں مصری پارلیمنٹ کے فیصلہ کی وجہ سے ایک نیا بحران سامنے آیا ہے جبکہ اس کے رد عمل میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے زبردست اعتراضات کئے گئے ہیں۔
سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ دراصل سول سوسائٹی کا خاتمہ کرتا ہے اور اپنے ادارتی معاملہ کو حکومت اور سکیورٹی سروسز کے حوالہ کرتا ہے۔
پارلیمانی ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کام کے علاقائی میدان میں سر گرم تنظیموں اور کمیٹیوں کے عمل کو منظم کرنے کے قانونی لائحۂ عمل میں کسی بھی طرح کا غیر قانونی شبہ نہیں ہے۔
ذرائع نے مزید یہ بھی کہا کہ وہ فیصلہ جس کو پارلیمنٹ کی موافقت حاصل ہے اس کے اور سرکاری فیصلہ کے مابین جوہری احکام میں کسی بھی طرح کا کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔ ذرائع نے اس جانب بھی توجہ دلایا کہ مقامی کام کرنے والے تنظیموں کے ذمہ دار وطن پرست اور اصول و مبادی کے پابندہیں۔ ۔ ۔ ان میں سے بہت ہی کم ایسے ہیں جو صحیح راستے سے منحرف ہوئے ہیں اور یہ استثنائی صورتحال ہے جس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔