شاہ فیصل ایوارڈ کی جانب سے عمان میں "عربی تراث اور جدید نظریات” کے نام سے ایک پروگرام کا انعقاد

دمام: "الشرق الاوسط” انٹرنیشنل شاہ فیصل ایوارڈ عمان میں عبد الحمید شومان کمیٹی کے تعاون سے آنے والے سوموار کو عمان کی راجدھانی میں "عربی تراث اور جدید نظریات” کے نام سے ایک پروگرام منعقد کر رہا ہے۔ اس پروگرام میں انٹرنیشنل شاہ فیصل ایوارڈ کی جانب اس سال عربی زبان و ادب میں

شاہ فیصل ایوارڈ کی جانب سے عمان میں "عربی تراث اور جدید نظریات” کے نام سے ایک پروگرام کا انعقاد
%d9%81%d8%a7%d8%a6%d8%b2%d8%a7%d9%86-%d9%84%d8%ac%d8%a7%d8%a6%d8%b2%d8%a9-%d9%85%d9%84%d9%83-%d9%81%d9%8a%d8%b5%d9%84

دمام: "الشرق الاوسط”

انٹرنیشنل شاہ فیصل ایوارڈ عمان میں عبد الحمید شومان کمیٹی کے تعاون سے آنے والے سوموار کو عمان کی راجدھانی میں "عربی تراث اور جدید نظریات” کے نام سے ایک پروگرام منعقد کر رہا ہے۔

اس پروگرام میں انٹرنیشنل شاہ فیصل ایوارڈ کی جانب اس سال عربی زبان و ادب میں مصری اکیڈمک ڈاکٹر/ محمد عبد المطلب (جو عین شمس یونیورسٹی کے آداب فیکلٹی میں نقد اور بلاغہ کے پروفیسر ہیں) اور مراکشی ڈاکٹر/ محمد مفتاح (جو مراکش میں محمد الخامس یونیورسٹی کے آداب فیکلٹی میں پروفیسر ہیں) ایوراڈ سے نوازے جانے والے دو خوش نصیب شرکت کر رہے ہیں،

یہ پروگرام عمان کی راجدھانی میں عبد الحمید شومان  فورم کے صدر دفتر میں منعقد کیا جائے گا۔

یہ سرگرمی انٹرنیشنل شاہ فیصل ایوارڈ کے پروگرام کے ضمن میں علمی، ثقافتی، عربی اور عالمی مؤسسات کے تعاون سے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی شرکت سے ثقافتی اور علمی پروگرام منظم کرنے کے کے ذیل میں آتی ہے

دونوں اکیڈمک شخصیات محمد عبد المطلب مصری اور محمد مفتاح مراکشی نے سال 2016ء میں انٹرنیشنل شاہ فیصل ایوارڈ مشترکہ طور پر عربی زبان و ادب میں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل  کی ہے۔

عبد المطلب کا انتخاب ان کے شاعرانہ نصوص میں تطبیقی تجزیئے کو لے کر کیا گیا ہے۔ انہوں نے نصوص کا بہت ہی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے جو تراث اور جدید ادبی نظریات کے مابین بہت ہی گہرائی سے ربط پیدا کرتی ہے۔

رہے ڈاکٹر/ مفتاح تو ان کا انتخاب عربی شاعرانہ نصوص کے تجزیہ میں ان کی بیش وبہا کوششوں کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی جدید ترین علمی معرفت کو شاعرانہ نصوص کو گہرائی اور باریک بینی سے تجزیہ کرنے میں صرف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں وصف بیان کرنے، تجزیہ کرنے ، تراث کی اہمیت کو جاننے اور انسانی ثقافت کی کشادگی میں مکمل طور پر عبور حاصل ہے۔