چرواہوں اور بچوں کو متاثر کرنے والے "عوامی ہجوم” پر خلاف ورزیوں کے بین الاقوامی الزامات

لندن: "الشرق الاوسط” کل بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائیٹس واچ” نےعراقی شہر موصل میں معرکوں کے دوران "عوامی ہجوم” کی ملیشیاؤں کی طرف سے زیادتیوں کے ارتکاب پر اسے خبردار کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے ان ملیشیاؤں نے ماہ رواں کی ابتداء میں تن

چرواہوں اور بچوں کو متاثر کرنے والے "عوامی ہجوم” پر خلاف ورزیوں کے بین الاقوامی الزامات
iraq

لندن: "الشرق الاوسط”

کل بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائیٹس واچ” نےعراقی شہر موصل میں معرکوں کے دوران "عوامی ہجوم” کی ملیشیاؤں کی طرف سے زیادتیوں کے ارتکاب پر اسے خبردار کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے ان ملیشیاؤں نے ماہ رواں کی ابتداء میں تنظیم داعش سے تعلقات کے شبہ میں "موصل کے قریب ایک گاؤں میں چرواہوں کو مارا پیٹا اور حراست میں لے لیا جن میں بچے بھی شامل ہیں”۔

دریں اثناء موصل میں ایک طرف حکومتی فوج وملیشیا اور دوسری جانب تنظیم داعش کے مابین جھڑپوں کے آغاز سے اب تک بے گھر ہونے والے عام شہریوں کی تعداد میں 68 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر تعاون کے دفتر نے کل اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ "اس وقت میں 68550 بے گھر افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں”۔

اس کے برعکس بین الاقوامی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ کل اس نے موصل کے وسط میں دریائے دجلہ کو عبور کرنے کے لئے پل کو تباہ کر دیا ہے کیونکہ "داعش” کے جنگجو اسے اپنے سامان کی منتقلی کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ گورنریٹ نینوا کے نائب سربراہ "نور الدین قبلان” نے کہا کہ دریائے دجلہ پر موجود تمام پلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے سوائے پرانے لوہے کے پل کے جسے مقامی لوگ "جسرالعتیق” کہتے ہیں۔