شام کی جنگ میں پوٹن اپنے اقتصادی حصے کے خواہاں ہیں

پابندیوں سے بچنے کے لئےغیر اعلانیہ کمپنیوں کے ساتھ سودہ طے کرنے کے معاہدہ کے لئے دمشق کی طرف پوٹن کا ایک وفد موسکو: طہ عبد الواحد روسی نائب وزیر اعظم اور فوجی صنعتوں کے انچارج "ڈیمتری روگوزین” نے کل دمشق میں شامی حکومت کے سربراہ کے ساتھ بات چیت کی جس […]

شام کی جنگ میں  پوٹن اپنے اقتصادی حصے  کے خواہاں  ہیں
پابندیوں سے بچنے کے لئےغیر اعلانیہ کمپنیوں کے ساتھ سودہ طے کرنے  کے معاہدہ کے لئے دمشق کی طرف پوٹن کا ایک وفد
%d9%be%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%86

موسکو: طہ عبد الواحد

روسی نائب وزیر اعظم اور فوجی صنعتوں کے انچارج  "ڈیمتری روگوزین” نے کل دمشق میں شامی حکومت کے سربراہ کے ساتھ بات چیت کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون پر زور دیا گیا۔

کل روگوزین خارجہ، دفاع اور اقتصادی ترقی کے نائب وزراء پر مشتمل ایک بڑے وفد کے سربراہ کی حیثیت سے  دمشق پہنچے جبکہ ان کے ساتھ ان غیر اعلانیہ کمپنیوں کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی جن کمپنیوں کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ یہ کمپنیاں  شام میں ملوث ہونے کی وجہ سے مغربی پابندیوں کا سامنا کریں گی، قابل توجہ بات  ہے کہ  توانائی اور ٹرانسپورٹ کے میدان میں  بہت   بڑے پروجیکٹ اسد کے سامنے پیش کیے گئے ہے۔

تجزیہ نگاروں نے اس دورے کو موجودہ جنگ کے ساۓ میں صدر پوٹن کا اسد حکومت سے اس سودے بازی کی حصولیابی  کی ایک کوشش شمار کیا ہے جس کا حصول امن کے دنوں میں نہیں ہو سکا ۔