اردگان "بسفور سربراہی اجلاس” کا افتتاح کر رہے ہیں اور سعودیہ مہمان خصوصی اور اسکا نقطۂ نظر موضوعات ميں سے ايك ہے

ہم 2030 تک اعلی درجے کی معاشی ترقی کے حصول کی کوشش کریں گے: القصبی   استنبول: "الشرق الاوسط” کل ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے استنبول شہر میں ساتویں "بسفور” سربراہی کانفرنس زیر عنوان "عالمی ہدف اور عالمی مستقبل" کا افتتاح کیا جس میں تقریبا 70 ممالک کے سربرا

اردگان "بسفور سربراہی اجلاس” کا افتتاح کر رہے ہیں اور سعودیہ مہمان خصوصی اور اسکا نقطۂ نظر موضوعات ميں سے ايك ہے
ہم 2030 تک اعلی درجے کی معاشی ترقی کے حصول کی کوشش کریں گے: القصبی
%d8%a7%d9%84%d9%82%d8%a8%d9%8a%d8%b5%d9%8a

استنبول: "الشرق الاوسط”

کل ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے استنبول شہر میں ساتویں "بسفور” سربراہی کانفرنس زیر عنوان "عالمی ہدف اور عالمی مستقبل"  کا افتتاح کیا جس میں تقریبا 70 ممالک کے سربراہان، وزير اعظم، حکومتی افراد اور کاروباری افراد نے شرکت کی- سعودی عرب اس سربراہی اجلاس میں مہمان خصوصی ہے- یہ تین روز تک جاری رہے گی۔

سربراہی اجلاس میں سعودی وفد کے سربراہ وزیر تجارت وسرمایہ کاری ڈاکٹر ماجد القبصی نے یقین دہانی کی کہ "سعودى عرب 2030 تک اعلی درجے کی معاشی ترقی کے حصول کی کوشش کرے گی۔ عالمی معاشی سست روی کے باوجود اگلے چند سالوں میں ہماری معیشت کے ڈھانچے میں اصلاحات کے اثرات متوقع ہیں- اور یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی غیر پیٹرولیم معیشت میں تبدیلی اپنے وسائل اور سرمایہ کاری کو بروئے کار لا کر کریں اور معاشی ترقى کےمتوقع شعبہ جات میں چند حکومتی خدمات کو خاص کرنا ہے۔

وزیر القصبی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ساتواں "بسفور” سربراہی اجلاس چیلنجز اور ترقی پذیرمعاشی تبدیلیوں کے مابین آیا ہے جس کا سامنا کرنے کے لئے غیر معمولی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ اس سربراہی اجلاس میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے درمیان مؤثر شراکت داری قائم کرنے میں مدد ملے اور اس دوران حکومت، ارکان پارلیمنٹ اور کاروباری افراد کو باہمی ملاقات کی خاطر ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے جسکا مقصد ہمارے ممالک میں معاشی ترقی کے لئے مختلف منصوبوں کی تنفیذ پر اتفاق کرنا ہے۔

پروگرام کے مطابق کئ ایک نشستوں پر مشتمل یہ سربراہی اجلاس وفد کے اراکین کی بڑی تعداد کے ساتھ جمعرات کے روز تک جاری رہے گا، جس میں "سعودی وژن 2030،  ترکی وژن 2023، مشرق وسطی کے ممالک کے لئے پیٹرول کی برآمد کی بجائے دیگر توانائی کے ذرائع کا حصول اور عالمی سول ایوی ایشن وانفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی پر گفتگو کی جائے گی۔