پیر کو وینا میں سعودی عرب کے معذرت کر لینے کے بعد "اوپیک” کی کانفرنس منسوخ کر دی گیی۔
ریاض نے پہلےتنظیم کے اندر پھر دیگر تیل پیدا کرنے والوں ممالک کے ساتھ معاہدہ پر زور دیا ہے ویینا: "الشرق الاوسط” تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک” کے ایک ذریعہ نے کل بلومبرگ کو بتایا کہ اوپیک ممبران اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان پیر کو [&helli
ریاض نے پہلےتنظیم کے اندر پھر دیگر تیل پیدا کرنے والوں ممالک کے ساتھ معاہدہ پر زور دیا ہے

ویینا: "الشرق الاوسط”
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک” کے ایک ذریعہ نے کل بلومبرگ کو بتایا کہ اوپیک ممبران اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان پیر کو وینا میں منعقد ہونے والی کانفرنس منسوخ کر دی گئی اور یہ کانفرنس آئندہ رکن ممالک کے نمائندوں کی شرکت پر منحصر ہوگی۔
کانفرنس اس وقت منسوخ کی گئی جب تنظیم کے ذرائع نے روئٹرز ایجنسی کو انکشاف کیا کہ سعودیہ کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گا- ذرائع نے یہ بھی کہا کہ: "سعودی عرب کی جانب سے ایک سرکاری خط کے ذریعہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی بات کہی گئی ہے کیونکہ ریڈکشن پر وزراء کے اتفاق کے بعد (اوپیک) کے غیر رکن ممالک سے معاہدہ کرنا ضروری ہے” اور مزید کہا کہ "یہ زیادہ مؤثر” بھی ثابت ہوگا۔
اس کانفرنس میں ماہرین کی سطح پر پیداوار محدود کرنے کے معاہدہ کے سلسلہ میں "اوپیک” کے غیر رکن تیل پیدا کرنے والے ممالک کی شراکت پر گفتگو ہونی تھی اور توقع ہے کہ "اوپیک” ممالک کے تیل کے وزاراء اگلے بدھ کو معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے ملاقات کریں گے۔
"اوپیک” ماہ ستمبر میں ہونے والے معاہدہ کو حتمی شکل دینے کی کوشش میں ہے اور تیل کی یومیہ پیداوار 23.5 اور 33 لاکھ بیرل تک کم ہو جائے گی اور اس معاہدہ کا مقصد زیادہ رسد کو ختم کرنے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے جبکہ ابھی تیل کی قیمت تقریبا 84 ڈالر پر بیرل ہے اور یہ قیمت 2014 کےوسط میں ریکارڈ نصف قیمت کی سطح کے نیچے ہے۔
تنظیم کا یہ بھی ارادہ ہے کہ غیر رکن ممالک (مثلا روس) پیداوار میں کمی کرے۔
ستمبر کے بعد سے کی جانے والی زبردست ڈپلومیسی کوششوں کے باوجود، عراق کا معاہدہ سے مستثنی کئے جانے کی دعوت اور متعلقہ اشیاء میں اضافہ کی خواہشمند ایران کی وجہ سے "اوپیک” کے معاہدہ کو رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ ان کی پیداوار پابندیوں کی وجہ سے نقصان سے دوچارہے۔