موصل میں پانچ لاکھ عراقی مشکل حالات سے دوچار اور اقوام متحدہ کا «تباہی» سے خبردار
شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا بغداد – لندن: "الشرق الاوسط” شمالی عراق میں موصل شہر کہ جہاں عراقی افواج اور مسلح تنظیم داعش کے مابین جھڑپیں دیکھنے میں آ رہیں ہیں وہاں کے تقریبا پانچ لاکھ باشندوں کو پینے کے پانی سے محرومی اور بجلی غائب ہونے […]
شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا

بغداد – لندن: "الشرق الاوسط”
شمالی عراق میں موصل شہر کہ جہاں عراقی افواج اور مسلح تنظیم داعش کے مابین جھڑپیں دیکھنے میں آ رہیں ہیں وہاں کے تقریبا پانچ لاکھ باشندوں کو پینے کے پانی سے محرومی اور بجلی غائب ہونے سے "سخت مشکلات” کا سامنا ہے۔
عراق میں اقوام متحدہ کے تحت انسانی ہمدردی کی کارروائیوں کی کوآرڈینیٹر”لیز گرینڈ” کا کہنا ہے کہ "تقریبا پانچ لاکھ شہری جو روزانہ خوراک کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہیں وہ اب پینے کے پانی سے محروم ہو رہے ہیں”۔ لیز نے فرانسیسی اخباری ایجینسی کو مزید بتایا کہ اس کمی سے شہر میں موجود بچوں، خواتین اور خاندانوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔
عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں جاری جھڑپوں کی وجہ سے پینے کے پانی کی مواصلاتی لائن کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، کل اقوام متحدہ نے مشرقی موصل میں انسانی صورت حال پر پھر خبردار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر نے کہا کہ: فرنٹ لائن کے قریب مشرقی موصل شہر کی صورت حال سے شہریوں کو ابھی تک خطرات درپیش ہیں اور مارٹر گولوں کی بمباری اور فائرنگ سے ابھی تک جانیں جا رہی ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "شہر سے خوراک اور پانی کے محدود ذخائر کے ساتھ غذائی قلت کے بارے میں پریشان کن اطلاعات مل رہی ہیں”۔