پرانے حلب کے زوال کی وجہ سے شہریوں میں مزید افراتفری
واشنگٹن: ہبہ قدسی امریکہ سمیت چھ مغربی ملکوں نے حلب شہر میں فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکومتی فورسز کی طرف سے ملک کے شمال میں واقع مشرقی مضافاتی علاقوں میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ واشنگٹن، پیرس، لندن، برلن، روم اور اوٹاوا نے اپنے جاری کردہ بیان میں […]

واشنگٹن: ہبہ قدسی
امریکہ سمیت چھ مغربی ملکوں نے حلب شہر میں فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکومتی فورسز کی طرف سے ملک کے شمال میں واقع مشرقی مضافاتی علاقوں میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ واشنگٹن، پیرس، لندن، برلن، روم اور اوٹاوا نے اپنے جاری کردہ بیان میں ایران اور روس کو آمادہ کیا کہ وہ اس سلسلہ میں شامی حکومت کےساتھ اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرے اور پر زور انداز میں یہ بھی کہا کہ ابھی سب سے زیادہ اہم جنگ بندی ہے تاکہ اقوام متحدہ مشرقی حلب کے باشندوں تک انسانی امداد فراہم کر سکے اور نقل مکانی کرنے والے افراد کی مدد کرسکے۔
حلب کے زوال کے بعد شہر میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن فورسز نے انسانیت کے نام پرفوری جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کے شامی مبصر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ حکومتی فورسز مشرقی علاقوں کے 80 فیصد سے زائد حصوں پر قابض ہو چکی ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن فورسزکا حقیقی خاتمہ یقینی ہے کیونکہ اب ان کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ حلب کے مشرق میں ایک طویل مدت تک شامی فورسز کا مقابلہ کر سکیں۔
شہریوں کی پریشانیوں کو ختم کرنے کے لئے اپوزیشن فورسز نے پہل کرتے ہوئے چار شرائط پر مشتمل ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انسانیت کے نام پر پانچ دن کے لئے فوری جنگ بندی کرنے کا ذکر ہے تاکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں فوری طور پر علاج کے ضرورت مند زخمی لوگوں کا صحیح علاج کیا جا سکے اور اندازہ کے مطابق اس طرح کے 500 کیس ہیں۔
اس میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ مشرقی حلب کو چھوڑ کر شمالی حلب کے علاقے کی طرف منتقل ہونے کے خواہش مند شہریوں کو وہاں جانے کی اجازت ہو جبکہ اس میں "اعزاز "کے علاقوں کی طرف منتقل ہونے کا بھی اشارہ ہے جہاں اپوزیشن فورسز قابض ہیں۔