"اوپیک” ممالک اور تیل برآمد کرنے والے دوسرے ممالک کے درمیان ایک معاہدہ
خبر: وائل مہدی کل وینا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور تیل برآمد کرنے والے (تنظیم میں غیر شامل) دوسرے ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے۔ قطر پٹرولیم کے وزیر اور اس سال "اوپیک” کانفرنس کے وزارتی سربراہ ڈاکٹر محمد السادہ نے آسٹریا کے […]

خبر: وائل مہدی
کل وینا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور تیل برآمد کرنے والے (تنظیم میں غیر شامل) دوسرے ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے۔
قطر پٹرولیم کے وزیر اور اس سال "اوپیک” کانفرنس کے وزارتی سربراہ ڈاکٹر محمد السادہ نے آسٹریا کے دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ تنظیم "اوپیک” کے علاوہ 12 ممالک نے عام پیداوار کو کم کر کے صرف 558 ہزار بیرل یومیہ پیداوارکرنے پر اکتفا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ یہ تعداد ہدف کے مقابلہ میں کم ہے لیکن پھر بھی "اوپیک” نے گزشتہ ماہ وینا میں ہونے والے حالیہ معاہدہ میں شامل ہونے کے لئے تنظیم میں غیر شامل ممالک کو قائل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
اجلاس کے بعد سعودی پٹرولیم کے وزیر انجینیئر خالد بن عبد العزیز الفالح نے ٹوئٹر پر کہا کہ یہ اجلاس تاریخی ہے اور یہ اجلاس "اوپیک” ممالک اور دوسرے ممالک کے درمیان پہلے کے مقابلہ میں وسیع پیمانہ پر تعاون کے امکانات کو فراہم کرے گا۔
امید کی جاتی ہے کہ روس "اوپیک” ممالک اور تیل برآمد کرنے والے دوسرے ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدہ کے مطابق تیل کی پیداوار میں حقیقی کمی کرکے یومیہ 300 ہزار بیرل تک کی پیداوار کرنے پر اکتفا کرے گا۔ یاد رہے کہ یہ معاہدہ 2001 سے اب تک کا پہلا معاہدہ ہے ۔