"اوپيک ” معاہدہ کی نگرانی کے لئے 6 ادارے

خبر: وائل مہدی جاری ماہ دسمبر ہی آخری ماہ ہوگا جس میں مارکیٹ "اوپیک” ممالک کی جانب سے تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ کی طرف پیش کردہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہوگی اور آئندہ ماہ جنوری کے آغاز سے سب کا تعامل "اوپیک” ممالک کے پیداوار کے متعلق مارکیٹ میں موجود ثانوی […]

"اوپيک ” معاہدہ  کی نگرانی کے لئے 6 ادارے
%d8%a7%d9%88%d9%be%db%8c%da%a9

خبر: وائل مہدی

جاری ماہ دسمبر ہی آخری ماہ ہوگا جس میں مارکیٹ "اوپیک” ممالک کی جانب سے تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ کی طرف پیش کردہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہوگی اور آئندہ ماہ جنوری کے آغاز سے سب کا تعامل "اوپیک” ممالک کے پیداوار  کے متعلق مارکیٹ میں موجود ثانوی ذرائع کے مطابق ہوگا۔

"اوپیک” کے آخری معاہدہ کے مطابق عنقریب تمام ممالک تنظیم کی پیداوار کی نگرانی کے لئے سرکاری اعداد و شمار کے مقابلہ میں ثانوی ذرائع کے پابند ہوں گے۔ اس فیصلہ کی وجہ سے عراق کے ذمہ دار قدرے نالاں ہوئے  ہیں اور اسی بنیاد پر انہوں  نے 30 نومبر کو منعقدہ اجلاس میں آخری لمحے تک ثانوی ذرائع کے استعمال نہ کرنے کے سلسلہ میں دیگر ممالک کو قائل کرنے کی بے انتہا کوشش کی۔

"اوپیک” اپنے اراکین ممالک کی پیداوار کی نگرانی کے لئے  مارکیٹ کے چھ اداروں کا سہارا لے گا جن میں خام تیل کی قیمت متعین کرنے والی پلاٹس اور ارگوس نامی ایجنسی ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی توانائی ایجنسی (International Energy Agency) ہے جس کا ہیڈکوارٹر پیرس میں ہے اور انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (Energy Information Administration) ہے جسے اعداد و شمار کے سلسلہ میں امریکی توانائی محکمہ (United States Department of Energy ) میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اسی طرح "اوپیک” نے دو اور ذرائع کا سہارہ لیا ہے وہ سیرا نامی تیل مشاورت کمپنی اور پٹرولیم انٹیليجنس ویکلی (Petroleum Intelligence Weekly) نامی میگزین ہے۔