آئندہ ہفتے سے دنیا کی طویل ترین پرواز کی روانگی
قاہرہ: "الشرق الاوسط اون لائن” آج(بروز ہفتہ) کی خبروں کے مطابق آئندہ ہفتے مغربی آسٹریلیا میں "پرتھ” نامی علاقے اور لندن کے مابین بغیر سٹاپ کے براہ راست سب سے طویل تجارتی پرواز کے انعقاد کی منظوری متوقع ہے۔ 2017 میں "کنتاس” نامی کمپنی کو ماڈل "بوئنگ 787 ڈریم

قاہرہ: "الشرق الاوسط اون لائن”
آج(بروز ہفتہ) کی خبروں کے مطابق آئندہ ہفتے مغربی آسٹریلیا میں "پرتھ” نامی علاقے اور لندن کے مابین بغیر سٹاپ کے براہ راست سب سے طویل تجارتی پرواز کے انعقاد کی منظوری متوقع ہے۔ 2017 میں "کنتاس” نامی کمپنی کو ماڈل "بوئنگ 787 ڈریم لائنز” کا طویل ترین پرواز کرنے والا جہاز ملنے کے ساتھ ہی کرسمس فیسٹیول سے اس کی پروازیں شروع کرنے کی امید کی جا رہی ہے۔
بیرتھ سے لندن تک 14466 کلو میٹر کی مسافت کے ساتھ ساڑھے 17 گھنٹے کی مسلسل پرواز اسے دنیا کی سب سے طویل ترین مسافر بردار براہ راست پرواز بناتا ہے.
"ویسٹ آسٹریلین” نامی اخبار کے مطابق کنتاس کے سربراہ "ایلن جوائس” بیرتھ ایئرپورٹ کے ذمہ دار کے ساتھ معاہدے کے اختتام کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس میں مسافروں کو ملکی ٹرمینل سے پرواز "787” کے ذریعے لندن سفر کی اجازت دی جائے گی اور اس سے سیڈنی اور میلبورن سے آنے والوں مسافروں کی نقل وحمل میں آسانی ہوگی۔
یاد رہے کہ ابھی تک سب سے طویل ترین براہ راست پرواز کرنے والا مسافر بردار جہاز "امارات ایئرلاین” کے پاس ہے، "ایئر بس ای- 380” ساختہ نامی اس جہاز نے مارچ 2016 سے پرواز کا آغاز دبئی اور اوکلینڈ کے مابین شروع کیا جو 14200 کلومیٹر کی پرواز 16 گھنٹے اور 35 منٹ میں مکمل کرتا ہے۔