ایران پر ٹرمپ کے جرنیلوں کی نگاہیں

واشنگٹن: گریگ جیف نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے تین جرنیلوں کا انتخاب موجودہ صدر براک اوباما کی خارجی پالیسی اور خاص طور پر ایران سے متعلق ان کی پالیسی کو ختم کرنے کے مرادف ہے کیونکہ انہوں نے "جیمز میٹس” کو وزیر دفاع، مائکل فلائن کو قومی سلامتی […]

ایران پر ٹرمپ کے جرنیلوں کی نگاہیں
%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be

واشنگٹن: گریگ  جیف

نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے تین جرنیلوں کا انتخاب موجودہ صدر براک اوباما کی خارجی پالیسی اور خاص طور پر ایران سے متعلق ان کی پالیسی کو ختم کرنے کے مرادف ہے کیونکہ انہوں نے "جیمز میٹس” کو وزیر دفاع، مائکل فلائن کو قومی سلامتی کا وزیر اور جان کیلی کو ہوم لینڈ سیکورٹی کا وزیر منتخب کیا ہے۔

ان تینوں جرنیلوں کے خیالات اب تک ایران میں اعتدال پسند سیاست دانوں کو بااختیار بنانے والی امریکی پالیسی کے لئے رکاوٹ ہے ۔

جرنيل فلائن نے "میدان جنگ” نامی اپنی تازہ ترین کتاب میں لکھا ہے کہ ہمارے سامنے ایک عالمی جنگ ہے  لیکن چند امریکی شہریوں  کو اس جنگ  کا ادراک ہے اور ان میں سے بڑی تعداد کے ذہن میں تو اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔

جہاں تک جرنيل میٹس کی بات ہے تو ایرانی دھمکی سے متعلق ان کے تبصرے کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوچکی ہے کیونکہ میٹس نے اوباما کی انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ ان کی انتظامیہ خطے میں متحدہ  امریکہ کے رجوع ہونے کے تاثر کو فروغ دے رہی ہے۔

ان دونوں جرنیلوں (میٹس اور کیلی) کو ملک کی خارجی پالیسی کے محکمہ اور امریکہ کے اتحادی خلیج عرب میں بڑا احترام اور مقبولیت حاصل ہے۔

سی آئی اے میں مشرق وسطی کے امور کے سابق تجزیہ کار ڈین پیمان کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے مشیروں کو بہت زیادہ ذاتی تجربات حاصل ہیں اور وہ ایران دشمنی کے سلسلہ میں یہ سمجھ کر غور وفکرکرتے ہیں کہ ان کا منصوبہ بہت ہی پختہ ہوتا ہے  نہ کہ کسی مشتعل جماعت کا جذباتی تصرف ۔